صیہونی ریاست سے پوری انسانیت کو خطرہ لاحق ہے : شامی سنی مفتی

قم، ارنا – شامی سنی مفتی نے کہا ہے کہ بلاشبہ اگر القدس اور فلسطین صیہونیوں کے ہاتھ میں ہوئے تو جس سے ساری انسانیت کو خطرہ لاحق ہے۔

یہ بات شیخ احمد بدرالدین حسون نے گزشتہ روز قدس کی دوسری بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہے کہ اگر القدس اور فلسطین صیہونیوں کے ہاتھ میں ہوئے تو یہ پوری انسانیت کو خطرے میں ڈالے گا لیکن امام خمینی نے اسرائیلی سفارت خانے کو بند کر کے فلسطینی سفارتخانے میں تبدیل کردیا  جس سے مسلم اقوام میں مزاحمت پھیل گئی۔

انہوں نے کہا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر مسلمانوں نے قرآن کی آیات اور دینی تعلیمات پر مبنی امن ، دوستی اور بھائی چارے کے پیغام کو تمام ممالک تک پہنچایا ، کیونکہ وہ انبیاء کے تمام مکاتب پر یقین رکھتے تھے۔

شامی مفتی نے اس مقدس سرزمین پر دشمنوں کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے  کہا کہ بدقسمتی سے کچھ لوگ تاریخ کو مسخ کرکے اپنے مفاد کے لئے اس سرزمین میں جمع ہوئے اور انہوں نے بہت سارے جرائم کا ارتکاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ فلسطین کی سرزمین کو ایک ہی قوم کی ملکیت سمجھتے ہیں اور انہوں نے مسلمانوں اور عیسائیوں کو گھروں سے بے دخل کیے۔

انہوںنے مزید کہا کہ تاریخ کی جعلسازی ایک تکلیف دہ مسئلہ ہے لیکن انہوں نے تمام انسانیت سے جھوٹ بولا جن کا مقصد انسانوں کو لوٹنا اور ان پر تسلط حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صیہونی جارحیت کا یہودیت سے کوئی تعلق نہیں اور اسرائیل کے نبی ان سے نفرت کرتے ہیں۔

شامی سنی مفتی نے کہا کہ ایران کی شام کی حمایت کسی خاص شخص ، حکومت اور گروہ کی حمایت نہیں ، بلکہ تمام مسلمانوں کی حمایت ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ القدس کی دوسری بین الاقوامی کانگریس کا 4 اور 5 مئی کو شہر قم میں جاری ہوگی جس میں ایران ، فلسطین ، ملائیشیا ، ہندوستان ، افغانستان ، پاکستان ، فرانس ، ارجنٹائن ، عراق ، ترکی ، چلی ، متحدہ عرب امارات ، لبنان ، شام ، برطانیہ ، کینیڈا اور تیونس کے 30 سائنسی اور ثقافتی شخصیات تقریر کریں گے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURD

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha