خطے میں مزاحمت کا محور تیزی سے پھیل رہا ہے: بحرینی عالم دین

قم، ارنا – بحرین کے مجاہد اسکالر نے کہا ہے کہ خطے میں مزاحمت کا محور تیزی سے پھیل رہا ہے اور اعلی فوجی اور روحانی طاقت کے حصول میں ہے۔

یہ بات شیخ عبداللہ دقاق نے گزشتہ روز قدس کی دوسری بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے اسرائیل کے وجود کو یقینی بنانے کے لئے مغربی ممالک کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ خطے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور مزاحمت کا محور بہت مضبوط اور قابل احترام ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوم قدس کا تعلق تمام مسلمانوں سے ہے اور تمام اسلامی اقوام کو اس عظیم دن کو منانا چاہئے اور امام خمینی نے اس عالمی دن کے قیام کے ساتھ تمام مسلمانوں بلکہ دنیا کے تمام آزادی پسندوں سے بیت المقدس اور فلسطین کے مسئلے پر توجہ مرکوز کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے قدس کی سرزمین کو بہت معزز قرار دیتے ہوئے کہا کہ زبردستی سے  مسلمانوں کی سرزمین پر قبضہ کر لیا گیا ہے تو لہذا ہمیں لازمی طور پر قدس کو واپس لے کر اس کے اصل مالکان اور مسلمانوں کو واپس کردینا چاہئے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ دن قابض صہیونی حکومت کے زوال اور تباہی کی علامت ہیں حالیہ دنوں میں صہیونی ایٹمی ری ایکٹر کے قریب میزائل سے نشانہ بنایا گیا، صہیونی اسلحہ فیکٹری میں دھماکہ ہوا۔

شیخ عبداللہ دقاق نے مزید کہا کہ ان سارے واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونیوں اور مغربی میڈیا کے دعوؤں کے برخلاف ، اسرائیل ایک ایسا کاغذی چیتا ہے جس کی کوئی طاقت نہیں ہے اور وہ بالکل زوال اور شکست کا شکار ہے اور اسلامی ممالک اور مشرق وسطی کی اس جعلی حکومت سے کوئی وابستگی نہیں ہے ۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ القدس کی دوسری بین الاقوامی کانگریس کا 4 اور 5 مئی کو شہر قم میں جاری ہوگی جس میں ایران ، فلسطین ، ملائیشیا ، ہندوستان ، افغانستان ، پاکستان ، فرانس ، ارجنٹائن ، عراق ، ترکی ، چلی ، متحدہ عرب امارات ، لبنان ، شام ، برطانیہ ، کینیڈا اور تیونس کے 30 سائنسی اور ثقافتی شخصیات تقریر کریں گے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURD

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 11 =