سرحدوں میں پاک ایران تعاون کا فروغ دونوں ملکوں کے مفادات کی فراہمی کرے گا

اسلام آباد، ارنا- پاکستانی حکومت نے علاقائی تعلقات کی گہرائی بالخصوص ہمسایہ ملک ایران سے تعاون کے فروغ کو اسلام آباد کی خارجہ پالیسی کو جیوسٹریٹجک سے جیو اکنامک کی طرف منتقل ہونے کی علامت قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق، تاجروں اور کاروباری حقلوں، تجارتی اداروں، نجی شعبوں اور ہمسایہ ملکوں نے ایران اور پاکستان کے درمیان تیسری باضابطہ سرحد "پیشین-مند" کے افتتاح کا خیر مقدم کیا ہے اور پاکستانی ماہرین کے مطابق، تہران کیساتھ تعلقات کی ترقی اور دونوں ممالک کے مابین سرحدی گزرگاہوں کی تعداد میں اضافہ، پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی علامت ہے۔

پاکستانی اخبارات نے سرحدی علاقوں کی صورتحال میں بہتری لانے کیلئے تہران اور اسلام آباد کی مشترکہ کاوشوں کی تعریف کی اور مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام پرزور دیتے ہوئے کہا کہ ان کوششوں کی مزید کامیابی، ایران کیساتھ معاشی تعاون بڑھانے کیلئے دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے فعال ہونے سے پاکستان کی سنجیدہ اور بروقت کاروائی سے ہوتی ہے۔

پاکستان کے انگریزی زبان کے اخبار نیشن نے ایک رپورٹ میں ایران کیساتھ مشترکہ اقتصادی کمیشن کی بحالی سے متعلق کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تیسری باضابطہ سرحد کا افتتاح اس حوالے سے بہت مددگار ثابت ہوگا۔

انہوں نے خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور علاقائی تعلقات پر مزید توجہ دینے کی پاکستانی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "پیشین-مند" سرحد کا افتتاح، اسلام آباد کی خارجہ پالیسی کی جیوسٹریٹجک سے جیو اکنامک کی طرف منتقل ہونے کی واضح علامت ہے۔

نیشین کی رپورٹ کے مطابق، ان تمام اقدامات کےساتھ ، ہمیں ابھی بھی دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین تجارت کی مطلوبہ سطح تک پہنچنے کے لئے بہت طویل سفر طے کرنا ہے اور مشترکہ جیو معاشی مفادات کے حصول کے لئے ایک مختصر، مفید اور ضروری طریقہ، ایران اور پاکستان کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔

اس اخبار نے حکومت پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایران کیساتھ مشترکہ اقتصادی کمیشن کو دوبارہ متحرک کیا جانا ہوگا اور معاشی امور کا جائزہ لینے کیلئے مشترکہ مانیٹرنگ گروپ تشکیل دیا جانا ہوگا (خاص طور پر دو طرفہ تجارت کا حجم بڑھانا) اس طرح سے بنیادی سامان کی برآمد اور فراہمی نئے راستوں کے ذریعے ہوگی۔

نیشین اخبار نے کہا ہے کہ پاکستان، ایران سے تجارتی تعلقات کے فروغ سے وسطی ایشیا تک آسان طریقے سے رسائی حاصل کر سکتا ہے لیکن اس کیلئے اسلام آباد کو اقتصادی کمیشن کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش میں پہلا قدم اٹھانا ہوگا؛ اس کمیشن کی بحالی کے ساتھ ہی پاکستان اور ایران کے مابین سرحدی منڈیوں کا قیام ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

اسلام آباد میں شائع ہونے والے اردو زبان کے اوصاف اخبار نے ایران اور پاکستان کے مابین تیسری باضابطہ سرحد کو کھولنے کو تجارت کے فروغ اور مشترکہ تجارت کے حجم کو بڑھانے کیلئے بہتر مواقع پیدا کرنے میں دونوں ممالک کے عہدیداروں کا ایک اچھا اقدام قرار دیا ہے۔

اوصاف کے مطابق، ہمسایہ ممالک کیساتھ تجارت کی ترقی بشمول سرحدی لین دین کی تقویت، خطے میں پاکستان کی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرتی ہے اور معیشت میں استحکام لانے کیلئے غیر ضروری اخراجات کو بچاتی ہے۔

اس اخبار کے مطابق، ایران اور پاکستان کے مابین بہت سارے مواقع موجود ہیں، لیکن بدقسمتی سے آج تک ان مواقع کا صحیح طور پر فائدہ نہیں اٹھایا گیا ہے لہذا ان مواقع کے مقابلے میں تجارت کا حجم  بہت کم ہے۔

اوصاف نے کہا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ سرحدوں میں اضافہ، دونوں ممالک کے لئے یکسان تجارتی مواقع فراہم کرے گا؛ نیز اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی کی کم ادائیگی کریں تو قلیل مدت میں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جائیں گے، جس سے قانونی تجارت میں ترقی ہوگی اور یقینا اسمگلنگ میں کمی واقع ہوگی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ کے حالیہ دورے ایران کے موقع پر پاک- ایران تیسری باضابطہ سرحد "پیشین-مند" کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔

 نیز  اس حوالے سے خاتون پاکستانی وزیر برائے دفاعی پیداوار زبیدہ جلال نے پاکستانی صوبے بلوچستان کے علاقے "مند" اور ایرانی صوبے سیستان اور بلوچستان کے علاقے  "پیشین" کے درمیان باضابطہ سرحد کے افتتاح کو ایک عظیم اور تاریخی اقدام قرار دے دیا جس سے دونوں ملکوں کے مفادات کی فراہمی ہوگی۔

انہوں نے حالیہ مہینوں میں علاقے "ریمدان- گنبد" میں پاک- ایران کی دوسری باضابطہ سرحد کی افتتاحی تقریب میں حصہ لینے سمیت بنیادی ڈھانچوں کی توسیع اور سرحدی بازاروں کے قیام پر اگلے قدموں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور اسلام آباد، باہمی تعلقات کی تقویت کے راستے پر گامزن ہیں۔

پاکستانی وزیر نے کہا کہ مشترکہ سرحدوں میں حالیہ تبدیلیوں سے باہمی تعلقات کی مضبوطی و نیز سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کی صورتحال میں بہتری آنے کا پختہ عزم ظاہر ہوتا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha