چین اور روس تقریبا تمام معاملات میں ہمارے ساتھ ہیں: عراقچی

تہران، ارنا - ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تقریبا تمام معاملات میں چین اور روس ہمارے ساتھ ہیں اور جوہری معاہدے کے نفاذ کے بعد اوباما اور ٹرمپ کے دوران ایران کے خلاف عائد ہونے والی تمام پابندیوں کو ختم کی جانی چاہیے۔

یہ بات ویانا میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ سید عباس عراقچی ، جوہری معاہدے کے جوائنٹ کمیشن کے مذاکرات کے ایک نئے دور کے اختتام پر کہی۔

عراقچی نے اس اجلاس میں ایران کے خلاف تمام پابندیوں بشمول امریکی' کاتسا 'نام نہاد پابندیوں پابندیوں کے خاتمے پر زور دیا۔

انہوں نے امریکہ اور ایران کے اقدامات کی ترتیب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ  امریکہ کو پہلے تمام پابندیاں ختم کرنی چاہئیں اور ایران صرف امریکی پابندیوں کی دیانتداری کی توثیق کے بعد ہی اپنی ذمہ داریوں پر واپس آجائے گا اور ایران کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

انہوں نے جوائنٹ کمیشن کے تیسرے ورکنگ گروپ جو کل ویانا میں شروع ہوگا، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کمیشن عملی اقدامات پر توجہ دے گا۔ اس ورکنگ گروپ کا کام یہ ہے کہ توثیق کے عمل اور اس کی مدت کا جائزہ لینے کے علاوہ  تمام فریقوں کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے "ٹائم ٹیبل" طے کرے۔

انہوں نے نام نہاد 'یو ٹرن' U-turn  نام نہاد پابندیوں جو ایران کی بینکاری لین دین میں سب سے اہم رکاوٹ اور جوہری معاہدے کے مفادات کے استعمال میں ایران کیلیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اور یہ کہ کیا ایران ان پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں  کہا کہ"ہمیں تحقیقات کو ماہرین پر چھوڑنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہم فی الحال 'مختلف کرنسیوں کو تبدیل کرنے' کے معاملے پر کام کر رہے ہیں۔

عراقچی نے ایک سوال، کہ کیا ایران مذاکرات کو بغیر کسی نتیجہ کے جاری رہے گا، کے جواب میں کہا کہ اگر ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ دوسری فریقیں کافی سنجیدہ نہیں ہیں تو ہم مذاکرات کو بند کردیں گے۔

انہوں نے کہا لیکن ہم ابھی تک اس نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha