ایران کی سویلین کے حقوق کیخلاف ورزی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کیجانب سے موثر اقدام نہ اٹھانے کی تنقید

نیویارک، ارنا- اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کیجانب سے جھڑپوں میں سویلین کے حقوق کیخلاف ورزی کرنے، صہیونی جرائم کے سامنے خاموشی اختیار کرنے، یمن کیخلاف سعودی عرب کی 6 سالہ جارحیت اور شام کیخلاف یکطرفہ پابندیاں عائد کرنے جیسے مسائل سے متعلق کوئی موثر اقدام نہ اٹھانے کی تنقید کی۔

ان خیالات کا اظہار "مجید تخت روانچی" نے منگل کے روز اقوام متحدہ میں مسلح جھڑپوں کے دوران سویلین کے تحفظ سے متعلق منعقدہ ایک اجلاس کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ جنگ کی ممانعت، بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے، لیکن بدقسمتی سے مسلح جھڑپ اب بھی ہمارے دور کی ایک حقیقت ہے، اور اسی کے ساتھ ساتھ ، شہریوں کے تحفظ جیسے کچھ اصولوں کا بھی مشاہدہ نہیں کیا جاتا ہے۔

تخت روانچی نے کہا کہ آج کا چیلینج عام شہریوں کی حفاظت کے لئے پابند قوانین کا فقدان نہیں ہے، بلکہ ایسے اصولوں اور قوانین کا عدم نفاذ ہے اور بڑی افسوس کی بات ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی ان اصولوں کیخلاف وزی کے رد عمل میں کوئی موثر اقدام نہیں اٹھایا ہے۔

تخت روانچی نے گزشتہ دہائیوں کے دوران، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صہیونی حکومت کے مسلسل غیر انسانی اور غیر قانونی سلوک کا حوالہ دیا جس میں وسیع پیمانے پر نسلی صفائی، فلسطینی مکانات اور املاک کو مسمار کرنے، غزہ کی پٹی کے غیر قانونی محاصرے، شہریوں اور بچوں سمیت عام شہریوں کا قتل، جیسے جرائم شامل ہیں جو جنگی جرائم کی واضح مثال ہیں۔

 ایرانی مندوب نے کہا کہ یمن کیخلاف 6 سال کی جارحیت کے سعودی مظالم، ان جرائم کی ایک اور مثال ہے جس میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں شہری ہلاک ہوچکے ہیں؛ گھروں، مساجد، اسپتالوں، اسکولوں، شاپنگ مالز، سفارتی مقامات اور یہاں تک کہ شادیوں اور سوگ کی تقریبات پر حملہ کیا گیا ہے اور شہریوں کو جنگی طریق کار کے طور پر بھوک مارنے سے دنیا کا بدترین معاصر انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام کیخلاف یکطرفہ غیر انسانی پابندیوں کے اثرات، جو خوراک اور ادویات سمیت انسان دوستانہ سامان کی درآمد کی روک تھام،  لوگوں کی جانوں کو شدید نقصان اور لوگوں کو بھوک سے مارنا، شامل ہیں، کو فوری طور پر روکا جانا چاہئے۔

ایرانی مندوب نے کہا کہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ بچے سب سے زیادہ ان اقدامات کے شکار ہیں، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مسلح جھڑپوں میں سویلین کے تحفظ پر جو اقدامات اٹھانے ہیں وہ ان جرائم میں ملوثین کو اپنے اقدامات کی فوری روک تھام اور ان جرائم کی ذمہ داری کی تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha