امید ہےکہ امریکہ ایک معقول پالیسی کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپس آئے: ایرانی وزیر خارجہ

بغداد، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ امریکہ ایک مناسب اور معقول پالیسی اپنانے کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپس آئے گا۔

یہ بات محمد جواد ظریف نے پیر کے روز بغداد میں اپنے عراقی ہم منصب فواد حسین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ جوہری معاہدے کی طرف واپس لوٹ آئے تو تہران امریکی کارروائیوں کی تصدیق کے بعد جوابی کارروائی کرے گا۔

ظریف نے عراقی وزیر خارجہ کے ساتھ فور پلس ون گروپ کے جوہری مذاکرات کے بارے میں بات چیت کی۔

عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے علاقائی مسائل کو حل کرنے میں اپنے ملک کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بغداد خطے میں امن لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے مسٹر ظریف سے ایران امریکہ کے تعلقات اور خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بات کی ہے اور اس سلسلے میں عراق کا کردار مثبت تھا۔

فواد حسین نے خطے میں عراق کے بنیادی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عراق کی موجودہ خارجہ پالیسی کی بنیاد سب کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنا ہے۔

انہوں نے حالات کو پرسکون کرنے کے لئے عراق کے نقطہ نظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلقات کو قائم کرنے میں عراق کی پالیسی مشترکہ مفادات پر مبنی ہے۔

عراقی وزیر نے کہا کہ ویانا میں امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان بات چیت کا آغاز ہوچکا ہے اور  ہم اس کا تعاقب کر رہے ہیں اور ہم اس شعبے میں ہونے والی پیشرفت سے خوش ہیں۔

انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیانہم نے معاشی میدان میں دوطرفہ تعلقات بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ کورونا کے چیلنجوں پر قابو پانے کے بعد ان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دیں گے۔

عراقی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عراقی حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد شہر نجف اشرف اور خطہ کردستان کا دورہ کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ ظریف نے عراقی صدر 'برہم صالح کے ساتھ ایک ملاقات میں باہمی تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURD

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha