ویانا جوہری مذاکرات کو طویل بنانے کی اجازت نہیں دیں گے: نائب ایرانی وزیر خارجہ

تہران، ارنا- نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے ویانا جوہری مذکرات سے متعلق کہا ہے کہ سیکٹرل اور انفرادی پابندیوں کو ختم کرنا چاہیے؛ البتہ سیکٹرل پابندیوں کی منسوخی سے متعلق کچھ مفاہمتیں ہیں لیکن ہم ان مذاکرات کو طویل بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان خیالات کا اظہار "سید عباس عراقچی" نے آج بروز اتوار کو ایرانی پارلیمنٹ کی خارجہ پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ویانا جوہری مذاکرات اور ایران کیخلاف پابندیوں کی منسوخی سے متعلق رپورٹ کو  پارلیمنٹ کے ممبران کو پیش کیا گیا اور پارلیمنٹ کے ارکین کے سوالات کا جواب بھی دیا گیا۔

عراقچی نے کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اراکین کے نقطہ نظر، جو بعض اوقات مذاکرات کے عمل میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا؛ نیز پابندیوں کی منسوخی سے متعلق اسٹریٹجک اقدام اٹھانے کے قانون اور یورینیم کی 60 فیصد افزودگی پر بھی تفصیلی مذاکرات ہوئے۔

ویانا میں ایرانی مذاکرات کرنے والے وفد کے سربراہ نے کہا کہ مذاکرات کی راہ میں چیلنجز ہیں اور ابھی ان پر قابو پانے سے متعلق بات کرنا، قبل از وقت ہے؛ ہمارا موقف واضح ہے؛ ایران کیخلاف پابندیوں کو اٹھانا ہوگا اور پھر ایران اس کی درستگی کی تصدیق کرکے اپنے جوہری وعدوں پر واپس آئے گا۔

عراقچی نے اسلامی جمہوریہ ایران کیجانب سے پابندیوں کی منسوخی سے متعلق پیش کردہ فہرست کے حوالے سے امریکہ اور دیگر فریقین کی رائے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ نے ایران کیخلاف دو طرح کی پابندیاں عائد کی ہیں؛ پہلا موضوعی یا سیکٹرل پابندیاں ہیں جو تیل، بینکنگ، انشورنس، شپنگ، پیٹروکیمیکل، عمارتوں اورآٹوموبائل شعبوں میں ہیں اور دوسرا، افراد اور قانونی اداروں کیخلاف عائد پابندیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افراد کیخلاف پابندیوں کی فہرست تقریبا ایک ہزار 500 افراد کی ایک لمبی فہرست ہے؛ لیکن ہم دونوں سمتوں میں آگے بڑھ رہے ہیں، تمام سیکٹرل پابندیوں کو ختم کیا جانا چاہئے اور میرے خیال میں اس سلسلے میں کچھ مفاہمتیں ہیں اور افراد کیخلاف عائد پابندیوں کو بھی اسی طرح ختم کرنا چاہئے؛ اس شعبے میں پیچیدہ مسائل ہیں جن کا ہم جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے ایران کیخلاف مرحلہ وار پابندیوں کے خاتمے سے متعلق کہا کہ ہم نے اس تجویز کا مسترد کیا ہے اور ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

عراقچی نے مذاکرات کے اختتام کے ٹائم سے متعلق سوال کے جوال میں کہا کہ ہم اس کی پیش گوئی نہیں کرسکتے لیکن؛ ہم مذاکرات کو طویل بنانے کی اجازت نہیں دیں گے؛ اگر ہم یہ محسوس کریں کہ دوسری فریق سنجیدہ نہیں ہیں یا وقت خریدنے یا دیگر موضوعات پر تبادلہ خیال کرنے کی تلاش میں ہیں تو ہم مذاکرات کو روکیں گے۔

نائب ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ لیکن ہم جلدی میں نہیں ہیں کیونکہ مذاکرات میں سنجیدہ امور موجود ہیں جن پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ لہذا ہم عجلت نہیں کریں گے اور مذاکرات کو بھی طویل بنانے کی اجازت نہیں دیں گے اور بڑی سنجیدگی سے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے تا کہ چیلنجز پر قابو پاسکیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha