ایرانی 13 ویں صدارتی انتخابات کا 18 جون کو انعقاد کیا جائے گا

تہران، ارنا – ایرانی سیاسی دن 18 جون ایرانی 13 ویں صدارتی انتخابات کے انعقاد کا دن ہے جو ایرانی جس میں ایرانی عوام اس سیاسی میدان میں اپنی پرجوش شرکت کے ساتھ ایک بار پھر اسلامی نظام اورانقلاب سے اپنی وفاداری کو دکھائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق،18 جوں کو بروز جمعہ ایران بھر میں 13 ویں صدارتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا اور اس موقع دیہی و شہری اسلامی کونسلز (لوکل باڈیز) کے بھی انتخابات کا 6 ویں مرحلہ منعقد ہوگا.

ملک کی انتخابی مہم کے سربراہ جمال عارف نے کرونا کی صورتحال میں انتخابات کی التوا کے امکان کے بارے میں کچھ سرگوشیوں کا حوالہ دیتے ہو‏ئے کہا کہ  حکومت اور وزارت داخلہ کے پاس انتخابات ملتوی کرنے کیلیے کوئی منصوبہ نہیں ہے اور صدارتی انتخابات یقینی طور پر 18 جون کو ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کورورنا کی وجہ سے رواں سال میں صدارتی انتخابات کا مہم صحت کے تمام پروٹوکولز  کے ساتھ اور ایک کھلی فضا یا اونچی چھت اور مناسب وینٹیلیشن کے ساتھ منعقد ہوگا۔

ایران میں صدارتی انتخاباتی عمل پر ایک نظر

اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں عوام کی رائے اور ان کے ووٹ کو ملک کے نظام کو چلانے میں بہت اہمیت کی حامل ہے اور ایک آزاد اور تعمیری حکومت کی تشکیل کے لئے انتخابی عمل نہایت ضروری ہے اور اس رپورٹ میں صدارتی انتخابات کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے.

ايران ميں قائم اسلامي جمہوري نظام ميں صدارتي منصب کو اہم مقام حاصل ہے اور جيسے پارليمٹ، ماہرين اسمبلي اور ديہي،شہري اسلامي کونسلز کے لئے اراکين عوامي ووٹ سے منتخب کيا جاتا ہے اسي طرح صدر کے لئے بھي پہلي نامزدگي کا اعلان کرنا ہوگا جس کے بعد مذکورہ شخص کو عوامي ووٹ کے ذريعے انتخاب کيا جاتا ہے.

لہذا اسلامي جمہوريہ ايران ميں بحيثيت سربراہ مملکت منتخب ہونے والے فرد ايک مقدتر سياسي شخص ہوگا جس نے اس منصب پر فائز ہونے کے لئے جنرل اليکشن کے ذريعے عوامي ووٹ حاصل کئے.

** آئين ميں صدر کي حيثيت

ايران ميں صدر سربراہ مملکت اور ملکي ايڈمنسٹريشن کے سربراہ ہيں اور آئين کے شق نمبر 113 کے مطابق، سپريم ليڈر کے بعد ملک کي سب بڑي سياسي پوزيشن صدر کو حاصل ہے جو ملک ميں قانون نفاذ کرنے کي ذمہ داري ان پر ہيں.

ايران ميں بننے والے صدر مملکت، اپني تقريب حلف برداري ميں يہ حلف اٹھائيں گے کہ ملک کے سرکاري مذہب کي پيروي کريں گے اور اسلامي جمہوريہ کے نظام اور آئين کے تحت کام کريں گے اور اس حوالے سے مادر وطن کي سرحدوں، خودمختاري اور جغرافيائي سالميت اور قوم کے حقوق کا دفاع کريں گے.

سربراہ مملکت سپريم ليڈر اور قوم کے سامنے اس بات کي ذمہ داري ليں گے کے مجلس (پارليمنٹ) ميں پاس ہونے والے قوانين کے نفاذ پر من و عن عمل کريں گے اور وہ اپني کابينہ اور سب سے قريبي سياسي عہدہ سنئير نائب صدر کے تعاون سے ملک ميں صحيح سياسي اقدامات کے نفاذ، اداروں کي شفاف کارکردگي، تعميري منصوبہ بندي اور ملک کے مفادات کے تحت بجٹ کي فراہمي کو يقيني بنائيں گے.
سربراہ مملکت کو ايران اور دنيا کے ديگر ممالک کے درميان طے پانے والے معاہدوں اور مجلس کي توثيق کے بعد بين الاقوامي اداروں کے ساتھ ہونے والي تعاون کي مفاہمت پر اختيارات حاصل ہيں.

** ايران کے انتخاباتي نظام اور صدر مملکت

آئين کے شق نمبر 114 کے مطابق ايران ميں عوام کے براہ راست ووٹ کے ذريعے چار سال کے لئے صدر کا انتخاب کيا جاتا ہے اور منتخب ہونے والے صدر صرف ايک بار کے لئے اگلے دور کے صداتي انتخابات ميں شرکت کرسکتے ہيں. صدر کے لئے ہونے والے انتخابات کي نگراني آئين کے شق نمبر 99 کے تحت گارڈين کونسل کرتي ہے.

ايراني آئين کے شق نمبر 115 کے مطابق، صدارتي اميدوار بننے کے لئے سياسي و مذہبي لحاظ سوجھ بوجھ، ايراني شہريت، ماضي ميں نماياں کارکردگي، باتقوا اور اسلامي جمہوريہ ايران کے آئين اور قانون اور سرکاري مذہب کے پابند رہنے کي ضرورت ہے.

ايران ميں صدارتي انتخابات کے شفاف اور آزادانہ انعقاد کي ذمہ داري وزارت داخلہ پر سونپي جاتي ہے اور اس مرحلے ميں ايک انتخاباتي نگران کميٹي کي تشکيل عمل ميں لائي جاتي ہيں جس کي قيادت موجودہ حکومت کے وزير داخلہ کريں گے، مجلس کے ايک سنئير رکن، اٹارني جنرل، وزير انٹيلي جنس اور سات نامور مذہبي، سياسي، ديني، سماجي اور ثقافتي شخصيات اس کميٹي کے ممبران ہوں گے.

صدارتي انتخابات سے پہلے اليکشن مہم کي نگراني کرنے کے لئے صدارتي انتخابات اليکشن مہم کي نگران کميٹي تشکيل دي جاتي ہے جس کا مقصد تمام صدارتي اميدواروں کي جانب سے شفاف انتخاباتي مہم اور بغير متنازعہ اقدامات کو يقني بنانے کے لئے کردار ادا کرے گي.
 

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURD

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha