ایران نے عالمی جوہری ادارے کو تفصیلی جوابات پیش کیے ہیں

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایران اور عالمی جوہری ادارے کے درمیان حالیہ مذاکرات کو دونوں فریقین کے درمیان پچھلے مذاکرات کے تسلسل میں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے آئی اے ای اے کو تفصیلی جوابات پیش کیے ہیں تا کہ وہ اپنی رپورٹ کو معیاری طریقے سے پیش کرسکے۔

ان خیالات کا اظہار "سعید خطیب زادہ" نے کلاب ہاؤس میں دنیائے عرب اور مغربی ملکوں کے کچھ صحافیوں سے ایک گفتگو کے دوران کرتے ہوئے بعض اہم ترین مسائل سے متعلق ایران کا موقف پیش کیا اور اس حوالے سے صحافیوں کے سوالات کا جواب بھی دیا۔

اس موقع پر انہوں نے عراق میں ایرانی اور سعودی عہدیداروں کے مابین مکالمے سے متعلق غیر سرکاری خبروں کے ایک سوال کے جواب میں غیر ملکی میڈیا رپورٹ کی درستگی یا اس کے بارے میں کوئی تبصرہ کیے بغیر کہا کہ یہ رپورٹ پہلے فائنانشل ٹائمز میں شائع ہوا؛ ہم عام طور پر تناؤ کو کم کرنے اور خطے میں تعاون بڑھانے کیلئے کسی بھی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ہم یقینی طور پر اپنے پڑوسیوں کیساتھ کسی نہ کسی طرح کی بات چیت اور رابطے کی تلاش میں ہیں۔

خطیب زادہ نے ایران- سعودی عرب تعلقات کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے تہران اور ریاض کے مابین مکالمہ کے انعقاد میں عراق، کویت، پاکستان، چین اور جرمنی سمیت کچھ خطی اور غیر خطی ممالک کی کاوشوں کا ذکر کیا اور کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران، دونوں ملکوں کے درمیان بلاواسطہ اور بالواسطہ رابطے ہوئے ہیں۔

انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کے خاتمے کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کی کمی سے متعلق کیے گئے اقدامات سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ایران نے بدستور اس حوالے سے کوشش کی ہے ہے اور اب سعودی عرب میں کشیدگی کی کمی میں کچھ مثبت علامات نظر آتے ہیں؛ اس حوالے ہمیں یبہت سارے مشکلات کا سامنا ہے لیکن میرا عقیدہ ہے کہ کشیدگی کا خاتمہ، دونوں ملکوں کے علاوہ خطے کے مفادات میں بھی ہے۔

خطیب زادہ نے "کیا ایران اور اردن کے کچھ سیکورٹی عہدیداروں کے درمیان منعقدہ اجلاس وہی علاقائی گفتگو کے سلسلے میں ہے جو ایران اس کا خواہاں تھا؟" کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے خطے میں، دیسی اور وسیع پیمانے پر اقدامات اور فریم ورکس بشمول خلیج فارس تعاون کونسل کا خط ہے جس کا امیر کویت کے ذریعے ہرمز امن اقدام کے تحت ایران لایا گیا تھا اور ان سب کا تعاقب میں بھی کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کشیدگی کے خاتمے پر عراق کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران اور خطی ممالک کے مابین بات چیت جاری ہے؛ اس کے باوجود یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ آیا علاقائی انتظامات حقیقی طور پر تشکیل پا رہے ہیں یا نہیں۔

خطیب زادہ نے علاقائی تعاون کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے اندر سے خلیج فارس کے لئے علاقائی منصوبوں کو تجویز کیا گیا ہے؛ ایک دسمبر 2016 میں تعاون کونسل کا خط ہے، جس کا امیر کویت کی کوششوں سے ایران لایا گیا تھا اور ایران نے بھی مارچ 2017 میں صدر حسن روحانی کے عمان اور کویت کے دورے کے موقع پر اس کا مثبت جواب دیا تھا اور دوسرا ایران کی طرف سے تجویز کردہ ہرمز امن منصوبہ ہے۔

ایرانی محکمہ خارجہ نے حالیہ دونوں میں ویانا میں جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے فریم ورک کے اندر ایران اور گروہ 1+4 کے درمیان مذاکرات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات کا سلسلہ بڑی سنجیدگی اور دقت سے جاری رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عبوری معاہدے پر ہرگز بات نہیں ہوگی اور ان اجلاسوں میں صرف ایران کیخلاف عائد پابندیوں کو اٹھانے اور پھر اس حوالے سے کیے گئے اقدامات کی درستگی کے جائزہ لینے کے طریقوں پر مذاکرات کیے گئے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تین ماہہ مفاہمت کی یادداشت کی ڈیڈلائن مئی میں ختم ہوگئی اور ہماری مذاکرات میں کوئی عجلت نہیں ہے لیکن ہم طویل مذاکرات کے خواہاں بھی نہیں ہیں۔

انہوں نے جوہری معاہدے  سے کچھ ممالک کے تباہ کن کردار کیساتھ ساتھ علاقائی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک ایک مضبوط اور آزاد ایران کے مخالف تھے، لہذا؛ ایران نے ایک تجویز"مضبوط خطہ " پیش کی؛ اس طرح سے، خطے کے ممالک کے مابین باہمی تعاون قائم ہوسکتا ہے۔ خطے کے کچھ ممالک کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ دوسروں کے عدم تحفظ کی قیمت پر  اپنی سرزمینکی سییورٹی فراہم کرسکتی ہیں۔

 خطیب زادہ نے یمنی بحران کے خاتمے سے متعلق ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعاون سے متعلق کہا کہ ایران نے یمنی مسئلے سے متعلق اقوام متحدہ کے موقف کی بدستور حمایت کی ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ سعودی عرب خود ہی یمنی جنک کا خاتمہ دے سکتا ہے۔

انہوں نے روسی جوہری چھتری سے فائدہ اٹھانے کیلئے ایران اور روس کے مابین معاہدے  سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے ان افواہین کی جڑ سے کوئی اطلاع نہیں ہے اور جیسا کہ ایران نے بارہا کہا ہے جوہری ہتیھاروں کا ایرانی دفاعی نظریے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ قائد اسلامی انقلاب کے فتوے کے مطابق، جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال پر پابندی، ایران کی ناقابل تبدیل پالیسی ہے۔

انہوں نے افغانستان کی سلامتی اور کابل میں طالبان رہنماؤں اور مرکزی حکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کے ساتھ ساتھ اس ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق کہا کہ افغانستان کی سلامتی اور استحکام ایران کی سلامتی اور استحکام ہے؛ اسی وجہ سے افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ایران کیلئے اہم ہے۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ افغان عوام کو خود اپنے ملک کے مستقبل کا فصیلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے افغانستان کی حالیہ صورتحال کو امریکی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں قرار دیتے ہوئے امریکہ سے اس ملک سے ذمہ دارانہ انخلا کا مطالبہ کیا۔

خطیب زادہ نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ خطے میں تعمیری کردار ادا کیا ہے اور ہمیشہ ایک مضبوط خطے کا حامی رہا ہے؛ یمن میں جو کچھ ہوا ہے وہ ایرانی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ملک پر امریکی حمایت یافتہ سعودی اتحاد نے حملہ کیا ہے اور اگر آج سعودی عرب یہ حملہ روک دے اور اس ملک کیخلاف پابندیاں ختم کردیں تو کل کوئی جنگ نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے لبنان کے اندرونی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی ہے اور اب لبنان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسی ملک میں اندرونی تبدیلیوں پر مبنی ہے اور ایران نے ہمیشہ ان ممالک کی مدد کی ہے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی کو شکست کا سامنا ہوا ہے اور یہ سب پر واضح ہے اس پالیسی نے صرف ایرانی پُرامن جوہری پروگرام اور ایران عوام پر نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے ناجائز صہیونی ریاست کی عدم تسلیم پر زوردیتے ہوئے کہا کہ مسئلے فلسطین کا حل ریفرنڈوم کا انعقاد ہے اور اس خطے میں رہنے والے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود ہی کرنا ہوگا۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ناجائز صہیونی ریاست ہمارے خطے کی بہت ساری خونین جنگوں میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری امریکی اندرونی معاملات سے کوئی سرو کار نہیں ہے اور ایران صرف امریکہ کیجانب سے اپنے جوہری وعدوں پر پابندی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں پر عمل کرنے کے معاملے میں امریکہ سے مذاکرات کر رہا ہے۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پابندیوں کی منسوخی کی فہرست ابھی تیار نہیں ہوگئی ہے تا ہم اس حوالے سے کچھ پیشرفتیں نظر آتی ہیں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha