22 اپریل، 2021 3:20 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 84305414
1 Persons
ایران مکھن برآمد کرنے والے ملکوں کے کلب میں شامل ہوگا

بوشہر، ارنا- ایرانی محکمہ زارعت کے نائب سربراہ برائے لائیو اسٹاک پروڈکشن کے امور نے کہا ہے کہ ہم مکھن کی تیاری میں خود کفیل ہونے سے مکھن برآمد کرنے والے ممالک کے کلب میں شامل ہوجائے گا

ان خیالات کا اظہار "مرتضی رضائی" نے آج بروز جمعرات کو صوبے بوشہر میں لائیو اسٹاک پروڈکشن کے شعبے میں 571 منصوبوں کی افتتاحی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران، مکھن کی 50 ہزار ٹن درآمد میں کمی آکر گزشتہ سال کے دوران 9 ہزار ٹن کی درآمد تک پہنچ گئی۔

ایرانی محکمہ زارعت کے نائب سربراہ برائے لائیو اسٹاک پروڈکشن کے امور نے کہا کہ اس اقدام سے ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں 300 ملین ڈالر کی بچت ہوئی۔

رضائی نے کہا کہ  گرچہ یہ دعوی کیا گیا تھا کہ کھانے پینے کی اشیاء اور زرعی مصنوعات کی لین دین پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہے لیکن عالمی سامراج نے گزشتہ دو سال سے اب تک ایران میں  مرغی کی برآمدات پر پابندی عائد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر قائد انقلاب انقلاب کے اقدامات اور حکومت کی حمایت نہ ہوتے تو اس پابندی سے ملک میں مرغی کے گوشت کی پیداوار کو سخت چیلنج کا شکار ہوتا؛ لیکن ایرانی چکن لائن کی بحالی کیساتھ ہی پابندیوں کی کڑی ٹوٹ گئی۔

رضائی نے کہا کہ محکمہ زراعت کا سب سے اہم کارنامہ، ریشم کیڑے کے سوت کی پیداوار کے 12 سالہ ریکارڈ کو توڑنا ہے؛ جو 2020ء میں 800 ہزار ٹن سے بڑھ کر 1،687 ٹن تک پہنچ گئی اور اس طرح ریشم کیڑے کی پیداوار میں خود انحصاری کا گتانک 26 سے 48 فیصد سے زائد تک بڑھ گیا جو قالین اور دستکاری صنعتوں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں پروٹین کی سرمایہ کاری اور فراہمی کے سلسلے میں زبردست اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن میں سے 5،570 بلین تومان (ایرانی قومی کرنسی) کی سرمایہ کاری سے مویشیوں اور پولٹری کے شعبے 571 منصوبوں کے نفاذ سے 5،580 افراد کیلئے براہ راست روزگار کی فراہمی کا نام لیا جاسکتا ہے۔

رضائی نے کہا کہ ان منصوبوں کے نفاذ سے مجموعی طور پر ملک میں 270 ٹن کچا دودھ، 10،000 ٹن سرخ گوشت، 18،000 ٹن مرغی، یومیہ 145 ملین مرغی اور 32،000 ٹن انڈے کی  پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha