پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان سے تعاون ایران کی حتمی پالیسی ہے: ایرانی اسپیکر

تہران، ارنا- ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی بازاروں کے قیام پر ایک مفاہمتی یادداشت کے دستخط پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پڑوسی مماللک بالخصوص پاکستان سے تعاون ایران کی حتمی پالیسی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ایران کے دورے پر آئے ہوئے "شاہ محمود قریشی" نے آج بروز بدھ کو "محمد باقر قالیباف" سے ملاقات اور گفتگو کی۔

اس موقع پر ایرانی اسپیکر نے دونوں ملکوں کے درمیان اچھے اور تعمیری تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہ ایران کی حتمی پالیسی پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان سے قریبی تعاون ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے دشمن، اپنی مداخلتوں سے ہمارے گہرے تعلقات میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو ہم اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے زیادہ پرعزم ہوجاتے ہیں۔

قالیباف نے کہا کہ انہوں نے اس سے پہلے تہران میں تعینات پاکستان کے سفیر سے ایک ملاقات کے دوران، تجارت اور سرحدی تعاون کے فروغ سمیت سرحدی بازاروں کے قیام پر زور دیا تھا اور اب وہ سرحدی بازاروں کے قیام کیلئے تعاون کی یادداشت پر دستخط اور "پیشین- مند" گیٹ کھولنے پر بہت خوش ہیں۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی اور سلامتی شعبوں میں تعلقات کی سطح کو اچھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بے پناہ صلاحیتوں کے پیش نظر باہمی اقتصادی تعلقات کی سطح قابل قبول نہیں ہے اور کورونا وبا اور پابندیوں جیسے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے معاشی تعلقات کے فروغ پر باہمی صلاحیتوں کو مزید بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

قالیباف نے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کیلئے پاکستانی موقف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت، پارلیمنٹ اور عوام اسلامی امت کے مابین کسی بھی تفرقہ انگیز آواز کی مخالفت کرتے ہوئے نسلی اور مذہبی اختلافات سے دور ہوکر امت اسلامی کے اتحاد کے سائے میں رہتے ہیں۔

انہوں نے حالیہ مہینوں میں افغانستان کے پڑوسی ممالک کی پارلیمنٹوں کے سربراہی وبینار کے انعقاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ویبنار میں معاشی تعاون، دہشتگردی کیخلاف جنگ اور افغانستان اور خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لئے اہم نظریات پر زور دیا گیا۔

قالیباف نے کہا کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے منصوبے سے اس ملک کی مدد کرنے میں ہمسایہ ممالک کا کردار زیادہ اہم ہوگیا ہے؛  لہذا، اسلامی جمہوریہ ایران، افغان امن عمل کی پیشرفت میں پاکستان کیساتھ تعاون کو ایک اہم قدم قرار دیتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ ہمارا مقبوضہ کشمیر سے متعلق موقف واضح ہے اور ہم اس علاقے میں رہنے والے عوام کے حقوق کی فراہمی پر توجہ دیتے ہیں۔

دراین اثنا پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کی پارلیمنٹس کے درمیان تعاون، پاک- ایران کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لاسکتا ہے۔

قریشی نے "پیشین- مند" سرحد کے باضابطہ افتتاح پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج نئے سرحدی بازاروں کے قیام کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی ایک یادداشت پر دستخط ہوگی جس سے مزید بازار کھول کر تجارت کی تقویت ہوگی۔

انہوں نے ایران کیجانب سے ایک جاری کردہ بیان میں کشمیر سے متعلق ایرانی موقف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں رہنے والے لوگوں کے حقوق کیخلاف ورزی ہوتی جا رہی ہے اور اب کوورنا وبا پھیلنے اور لاک ڈاؤن سے ان کی صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے۔

قریشی نے کہا کہ اس حوالے سے قائد اسلامی انقلاب اور ایرانی عہدیداروں کا بیان، ہمارے لئے حوصلہ افزا تھا اور یہ مسئلہ ہماری خارجہ پالیسی کا ایک سنگ بنیاد ہے۔

انہوں نے افغان امن عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی داعش اور دہشت گردی کے فروغ کا خواہاں نہیں ہے اور ہم دونوں ہی امن اور خوشحالی کے خواہاں ہیں جس سے یقینی طور پر تعلقات مضبوط ہوں گے۔

قریشی نے پاکستان نیشنل قومی اسمبلی کے اسپیکر "اسد قیصر" کے پیغام کو قالیباف کا حوالہ کردیا جس میں انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha