شہرت دوام کے حامل نغمات کے شاعر سعدی شیرازی کی زندگی پر ایک جھلک

تہران، ارنا- سعدی شیرازی ایران کے مایہ ناز شاعر ہیں جو سنہ 606 ہجری قمری میں ایرانی تاریخی شہر شیراز میں پیدا ہوئے اور ایرانی عوام ہرسال 21 اپریل کو یوم سعدی کے طور پر مناتے ہیں۔

سعدی شیرازی کا لقب "مصلح الدین" اور سعدی تخلص تھا؛ اس تخلص کا سبب بادشاہ شیراز "اتابک سعد بن زنگی" کی نسبت ہے جس کے دربار میں ان کے والد ملازم تھے؛ سعدی، 1210ء ایران کے شہر شیراز میں پیدا ہوئے؛ اسی شہر شیراز کی مناسبت سے ان کے نام کے ساتھ شیرازی کا لاحقہ لگا۔

شیخ کے والد کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا اور وہ جس نازونعمت میں پل رہے تھے، سب چھن گئے؛ چونکہ وہ شاہی ملازم تھے، لہذا مالی اعتبار سے ان کا خاندان خوشحال تھا۔ مگر حصول علم کے لئے انھیں بغداد جانا پڑا ،جہاں کا مدرسہ نظامیہ عالمی شہرت کا حامل تھا اور دور دراز کے طلباء یہاں پڑھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔

مدرسہ کے اساتذہ میں بڑے بڑے علمائے فن ہوتے تھے اور مدرسے کی طرف سے طلباء کو وظیفے بھی دیئے جاتے تھے۔ اس زمانے میں شیراز بھی، اہل علم کا مرکز تھا اور یہاں مدرسے موجود تھے مگر زمانے کے دستور کے مطابق شیخ بھی مدرسہ نظامیہ میں داخل ہوئے جو اپنے عہد میں بین الاقوامی یونیورسیٹی کی حیثیت رکھتا تھا۔

سعدی شیرازی نے جامعہ نظامیہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد متعدد ملکوں کی سیاحت کی۔ وہ شام، مص،عراق، انتولیا بھی گئے، جہاں بڑے شہروں کی زیارت کی، گاہکوں سے بھرے پر رونق بازار دیکھے، اعلی درجہ کے فنون لطیفہ کے نمونوں سے محظوظ ہوئے اور وہاں کے علما اور فن کاروں سے ملاقاتیں کیں۔

آخر کار وہ جہادی صوفیوں کے ایک گروہ میں شامل ہوگئے، جو صلیبی جنگوں میں شریک تھا۔ ان کیساتھ مل کر انہوں نے جنگیں بھی لڑیں۔ ایک ایسی ہی جنگ میں وہ جنگی قیدی بنے اور سات سال اس کیفیت میں گزارے۔

قید سے رہائی کے بعد سعدی شیرازی یروشلم چلے گئے؛ وہاں سے مکہ اور مدینہ کا رخ کیا۔ بیس برس کی طویل مسافت کے بعد سعدی شیرازی آخر کار اپنے آبائی وطن ایران پہنچے، جہاں انہیں اپنے پرانے رفقا کی صحبت میسر آئی۔

1257ء میں سعدی شیرازی اپنے آبائی شہر شیراز لوٹے۔ تب تک آپ عمر کی چار دہائیاں گزار چکی تھیں اورپانچویں دہائی کے اختتامی برس میں تھے۔ اسی برس انہوں نے اپنی کتاب "بوستان" سعدی پر کام ختم کیا۔ اتنے برسوں میں جو کچھ لکھا تھا، اسے اکٹھا کیا اور کتابی صورت دی۔

ان برسوں میں وہ ایک شاعر کی حیثیت سے اپنی پہچان بناچکے تھے۔ شیراز میں واپسی پر ان کا استقبال نہایت شان و شوکت سے کیا گیا؛ عوام کی بڑی تعداد اپنے نامور شاعر کو خوش آمدید کہنے کیلئے شہر کی سڑکوں پر اکٹھی ہوئی؛ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد سعدی نے باقی عمر شیراز ہی میں بسر کی اور اپنا بیشتر وقت مشق شعرو سخن میں صرف کیا۔

سعدی شیرازی کی شہرہ آفاق کتابیں "بوستان" سعدی اور "گلستان" سعدی بالترتیب 1257ء اور 1258ء میں مکمل ہوئیں۔

بوستان سعدی شعری مجموعہ ہے، جس میں اعلی اخلاقی و مذہبی اقدار اور صوفیا و علما دین کے طرز عمل سے متعلق رزمیہ انداز میں شعر موجود ہیں۔ اس کے مقابلے میں گلستان سعدی میں یہی حکایات نثر کے پیرایے میں اپنا اظہار پاتی ہی؛۔ یہ چھوٹی چھوٹی کہانیوں اور حکایتوں کے مجموعہ کی صورت میں ہے، جن میں فہم و دانش کے نکات کو موثر انداز میں واضح کیا گیا ہے۔

سعدی شیرازی کا انداز فکر و نظر درویشانہ ہے۔ وہ آلائشات دنیاوی کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے واقعات سے زندگی کے اسراروں پر سے پردہ ہٹانے کا فن جانتے ہیں اور انسانی موجودگی کی ہیئت کذائی کو تصویر کرتے ہیں۔

سعدی شیرازی کے پاس ایسی گہری نگاہ ہے، جو معمول کے واقعات سے زندگی کے گہرے اسرار بے نقاب کرنے کا راستہ تلاش کرلیتے ہیں؛ بوستان میں خاص کر وہ روحانی بالیدگی پر اصرار کرتے ہیں اور دنیا کو روحانی قدرومنزلت حاصل کرنے کے لیے ایک تختہ مشق تصور کرتے ہیں۔ سعدی شیرازی کی غزلیات ان کے صوفیانہ خیالات سے آویزاں ہے۔

عالمی ادب میں سعدی شیرازی کی شہرت کا سبب ان کے دو ہی کتابیں بنی ہیں، جو انہیں رہتی دنیا تک زندہ رکھنے کی طاقت کی حامل ہیں۔ یہ کتابیں گلستان سعدی اور بوستان سعدی ہی ہیں۔ آج بھی یہ کتابیں دنیا بھر میں فارسی کے نصاب کا بنیادی حصہ مانی جاتی ہیں۔

سعدی آخرِ زندگی  نے شیراز کے نواح میں ایک خانقاہ میں گوشہ نشینی اختیار کرکے گزاری، مرتے دم تک نہیں چھوڑا اور آخر 691 ھ میں خانقاہ میں ہی دفن ہوئے؛ آپ کا مزار سعدیہ کے نام سے مشہور ہے اور زیارت گاہ خاص وعام ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha