ایران کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کے کنونشن کے مطالبات پر پابند ہے: ایرانی عہدیدار

تہران، ارنا - نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے قانونی اور بین الاقوامی امور  نے  کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت سے متعلق کنونشن کی ضروریات اور مطالبات پر پابند ہے۔

یہ بات محسن بہاروند نے کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت سے متعلق کنونشن کے رکن ممالک کی 25 ویں سالانہ کانفرنس کے موقع پر اس تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل فرناندو آریاس کے ساتھ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کیمیائی ہتھیاروں کے کسی بھی حالت میں استعمال کی مذمت کرتا ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت سے متعلق کنونشن کی خواہشوں کا پابند اور ان کا احترام کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بلاشبہ کیمیائی ہتھیاروں سے پاک دنیا کیمیائی ہتھیاروں کے ذخائر کی مکمل تباہی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

نائب ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امید ہے کہ امریکہ جس کے پاس باضابطہ طور پر یہ ہتھیار موجود ہیں، وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا اور جوہری ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کی مکمل نگرانی میں اس ملک کے کیمیائی ہتھیاروں کو جلد از جلد ختم کردیا جائے گا۔

بہاروند نے کہا کہ ایران معاصر تاریخ میں کیمیائی ہتھیاروں کا شکار ہونے والا بڑا ملک ہے اور صدام کی حکومت کی طرف سے ایرانی شہریوں کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے تلخ تجربے سے تین دہائیوں سے زیادہ گزرنے کے باوجود ابھی بھی متاثرین کے دکھوں اور مصائب کو دیکھ رہے ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURD

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha