ایران سے تجارتی تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں: سربین وزیر خارجہ

تہران، ارنا- سربیا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تہران اور بلغراد کے درمیان سیاسی تعلقات کی بہت اعلی سطح ہے اور ہمیں اقتصادی شعبے میں بھی تعلقات کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار ایران کے دورے آئے ہوئے "نیکلا سلاکوویج" نے ارنا نمائندے سے ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ملک ایران جوہری معاہدے کی حمایت کرتا ہے اور ویانا کے مستقبل اجلاس میں ایران کیلئے کامیابی کی خواہش کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدہ؛ نہ صرف ایران، بلکہ پورے دنیا اور علاقے کیلئے اہم ہے اور انہیں ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" کے ذریعے ان مذکرات سے واقفیت حاصل ہوئی ہے اور وہ ایرانی وفد کی کامیابی کیلئے پُرامید ہیں۔

سلاکوویچ نے کہا کہ سربیا "کوسوو اور میٹھوجا" پر پریسٹینا کیساتھ بھی بات چیت کر رہا ہے اور وہ اسلامی جمہوریہ ایران کا اس معاملے میں سربیا کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔

سربین وزیر خارجہ نے ایرانی صدر مملکت اور اسپیکر سے اپنی حالیہ ملاقاتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام سے ان کی بہت اچھی اور تعمیری ملاقاتیں رہیں؛ دو دوست اور ہمسایہ ملک؛ اسلامی جمہوریہ ایران اور سربیا کے درمیان اچھے سیاسی تعلقات ہیں اور انہوں نے مختلف بین الاقوامی صحفوں میں ایک دوسرے کی بدستور سیاسی حمایت کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سربیا، ایران کی آزادی اور آزادانہ طور پر اپنی ترقی کے طریقے کار کا انتخاب کرنے کے حق کا احترام کرتا ہے۔

سلاکوویج نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ نے ہمیشہ سربیا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور آزادی کو تسلیم کیا ہے اور "کوسوو اور میٹھوجا" کے مسئلے کا پُرامن اور سفارتی حل تلاش کرنے کیلئے بلغراد کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے اپنے دورے ایران کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی یادداشت پر دستخط سے متعلق کہا کہ اس یادداشت سے ایران اور سربیا کے درمیان سیاسی مذاکرات کا پختہ عزم ظاہر ہوتا ہے اور ہمیں بلغراد میں ایران کی میزبانی پر بہت خوشی ہوگی؛ جس سے تعاون کا فروغ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تعاون کی یادداشت سے مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کے فروغ کی فضا کی فراہمی ہوگی۔

سلاکوویچ نے کہا کہ ہم نے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 16 ویں اجلاس کے انعقاد کی تیاریاں فراہم کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا؛ کورونا کی وجہ سے رونما ہونے والی بُری صورتحال میں بہتری آنے ہی سے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

 *** کورونا ویکسین کی تیاری کیلئے ایران سے تجربات کے تبادلہ پر تیار ہیں

سریبن وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک مختلف اقتصادی، معاشرتی، ثقافتی، اقتصادی اور سیاحتی شعبوں میں ایران سے تعاون کے فروغ کا خواہاں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوورنا وبا پھیلاؤ کے دوران، ایران سے ادویات اور صحت کے شعبوں میں تعاون کی توسیع پر تیار ہیں اور انہوں نے کوورنا وائرس کی پچھلی لہروں میں سربیا کیجانب سے کیے گئے اقدامات کو ایرانی صدر کے سامنے پیش کیا ہے۔

سلاکوویچ نے کہا کہ سربین صدر "آلسکاندر ووچیچ" نے کورونا کے پھیلاؤ ہی سے حکومت میں دو الگ الگ ورکشاپس گروپوں کی تشکیل دی؛ ان میں سے ایک نے کورونا سے متاثرہ لوگوں کے علاج معالجے اور اس بیماری کیخلاف شہریوں کے تحفظ کو برقرار رکھنے کے امور کو آگے بڑھایا؛ جس کا انتظام وزیر اعظم نے کیا تھا اور دوسرے گروپ کا انتظام خود انہوں نے کیا تھا، جس کا مقصد، ملکی معیشت کو اس صورتحال کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران سے بچانا تھا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سربیا، یورپی ممالک کے درمیان، کورونا وبا سے لڑنے میں اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور نہ صرف ہمارے ملک میں کوورنا سے متاثرہ افراد کی موت بہت کم تھی بلکہ ہم نے عوام کی ویکسینیشن کیلئے کافی ویکسین کی فراہمی کی ہے اور اب تک ہم نے ملک کی آبادی کا ایک تہائی سے زیادہ ٹیکے لگائے ہیں۔

سربین وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہم نے اس حوالے سے ایک اور کامیابی حاصل کی اور ہم جنوبی یورپ کا پہلا ملک ہے جس نے روس کے تعاون سے ویکسین کی تیاری کا آغاز کیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار دنوں سے بلغراد میں روسی ویکسین کی تیاری کا آغاز ہوچکا ہے اور ہم اپنے چینی شراکت داروں سے بھی تعاون کر رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اکتوبر کے اوسط میں چینی ویکسین سینوفارم کی تیاری کا آغاز بھی کریں گے اور موسم گرمیوں کے آخر تک ویکسینیشن کے عمل کو مکمل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سربیا میں ویکسین تیار کرنے والی انسٹی ٹیوٹ، ایران سے اپنے تجربات کو شیئر کرنے پر تیار ہیں۔

سربیا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور سربیا کے درمیان سیاسی تعلقات کی بہت اعلی سطح ہے اور ہمیں اقتصادی شعبے میں تعلقات کو بھی آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ایران اور سربیا کے درمیان مشابہتیں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی بہت ساری پڑوسی ہیں اور اس لیے ہمیں ایک مخصوص خارجہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔

سلاکوویچ نے کہا کہ ہمارے لیئے فخر کی بات ہے کہ سربیا، دنیا کے وہ ممالک میں سے ہے جس کے خلیج فارس کے سارے ممالک سے اچھے تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہمیں اس دور کی ایک انتہائی خوفناک بیماری کا سامنا ہے لیکن ہمیں وقت کو ضائع نہیں کرنا ہوگا اور اب سے کورونا کے خاتمے کے فورا بعد کیلئے تعاون کے آغاز کے حالات کو تیار کرنا ہوگا۔

*** سربین زبان میں ہزاروں فارسی الفاظ ہیں

سربین وزیر خارجہ نے ایران اور سربیا کے درمیان مشترکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سربین زبان میں ہزاروں فارسی الفاظ ہیں اور سربیا کے زیادہ تر عوام ان الفاظ کی فارسی جڑیں سے واقف نہیں ہیں۔

سربیا کے وزیر خارجہ نے ایرانی میزبانوں کو  اپنی طرف سے پیش کردہ یادگار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میرے لئے یہ دلچسپ بات ہے کہ اس یادگار کا ایرانی اور سربین نام ایک جیسا ہے؛ یہ عام نکات ہیں جو تمام شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے کی بنیاد ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تہران اور بلغراد کے مابین جغرافیائی فاصلے کے باوجود، دونوں ممالک کے فنکاروں اور ثقافتی دوستوں کے تعاون سے، ہم اپنی مشترکات پر زور دے کر ثقافتی تبادلے کو بڑھا سکتے ہیں۔

سلاکوویچ نے کہا کہ ایرانی اور سربین ثقافت میں بعض روایات ہیں جو ایک جیسی نہیں بلکہ ایک ہی ہیں؛ زیادہ تر سربین اور ایرانی عوام، ان مشترکات سے بے خبر ہیں، اور سربوں اور ایرانیوں کو ان مشترکات کا تعارف کرنے سے دونوں ممالک کے مابین باہمی تفہیم بڑھا سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے دورے ایران کے موقع پر ایرانی عوام کی ثقافت اور رسم و رواج اور ان کے سلوک سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ایرانیوں کی گرمجوشی اور دوستانہ مہمان نوازی کو کبھی نہیں بھولوں گا؛ تہران کے جنوبی علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے میں نے روزے دار لوگوں کی پذیرائی کے لئے پینٹ انڈوں کی ایک بڑی ٹوکری دیکھی اور ایک آرتھوڈوکس عیسائی کی حیثیت سے یہ کہنا ضروری ہے کہ ہماری روحانی زندگی میں بھی ایسی ہی تقریبات ہیں؛ سربیا اور ایران کے مابین مذاہب کا مکالمہ جاری ہے اور ان مکالموں اور تعلقات کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔

 سربین وزیر خارجہ نے مشرق وسطی اور دنیا کے دیگر حصوں سے آنے والے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی میزبانی سے متعلق سربین حکومت کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں سربیا نے مشرق اور مشرق وسطی سے بہت سارے تارکین وطن کی میزبانی کی ہے اور وہ مہاجرین کی پذیرائی کرنے والے سب سے بہترین ملکوں میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1990ء کی دہائی میں سربیا ان ممالک میں شامل تھا جہاں سب سے زیادہ پناہ گزینوں کی تعداد تھی اور اس کی آبادی کے 10 فیصد کا تعلق تارکین وطن سے تھا اور اب ہم نے سربیا کے شہریوں کی ویکسینیشن کے علاوہ تمام پناہ گزینوں کی ویکسینیشن کی ہے۔

 *** ویانا مذاکرات کی کامیابی دنیا اور علاقے کیلئے انتہائی اہم ہے

سربین وزیر خارجہ نے خطے میں ایران کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کی کامیابی علاقے کیلئے انتہائی اہم ہے؛ ہم نے خطے کے سارے ملکوں سے اچھے تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے اور ان کوششوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسا حل تلاش کرنا جو خطے کے تمام ممالک کی تیز رفتار ترقی کا باعث بنتا ہے نہ صرف ہر ایک ملک بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لئے اہم ہے، اور ایک ایسے ملک کی کے نمائندے کی حیثیت سے جس نے ہمیشہ پُر امن حل تلاش کیا ہے اور 1990ء کی دہائی کی خوفناک پابندیوں پر قابو پایا ہے، ایران کیخلاف پابندیوں کی منسوخی کی کامیابی کی خواہش کرتا ہوں۔

انہوں نے یورپی یونین میں سربیا کی شمولیت کے عمل سے متعلق کہا کہ ہم یورپی یونین میں شامل ہونے کے لئے بات چیت کر رہے ہیں اور ہم نے اس سمت میں بہت ساری معاشی اور معاشرتی اصلاحات کیں۔

 سلاکوویچ  نے کہا کہ سربیا مغربی بلقان کے ممالک میں سے ایک ہے جو یورپی یونین میں شمولیت کے عمل میں دلچسپی رکھتا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ اگلے موسم گرما میں اس سمت میں نئے اقدامات اٹھائیں گے۔

*** اپنی قومی سالیمت سے ایران کی حمایت کو کبھی نہیں بھولیں گے

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس یوروپی یونین میں شامل ہونے کا کوئی آسان طریقہ نہیں ہے؛ اس حوالے سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے اور یورپی یونین کے ممبروں کو بھی اس پر متفق ہونے کی ضرورت ہے۔

سلاکوویچ نے کہا کہ جو معاملہ سربیا کو خطے کے دوسرے ممالک سے الگ کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم خطے میں واحد ملک ہے جس نے باضابطہ طور فوجی غیرجانبداری کی پالیسی اپنائی ہے؛ خطے کے دوسرے ممالک بھی نیٹو میں شامل ہونا چاہتے ہیں، لیکن ہمیں نیٹو میں شمولیت میں دلچسبی نہیں ہے۔

انہوں نے گزشتہ سال کے دوران، اپنے دورہ واشنگٹن اور امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے متعلق کہا کہ ہم نے اقتصادی تعلقات کو بہتر بنا کر پرسٹینا کے ساتھ سیاسی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں کیں؛ لیکن بدقسمتی سے حالیہ ہفتوں میں اس خطے میں برسرکار آئے ہوئے نئے قائد، واشنگٹن میں طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

سلاکوویچ نے صیہونی ریاست کیجانب سے کوسوو کی آزادی کو تسلیم کرنے سے متعلق کہا کہ ہم صہیونی ریاست کے اس اقدام سے ناراض ہیں اور سربیا کے صدر نے، واشنگٹن کے معاہدے کے بعد باضابطہ طور پر اس مسئلے کا اعلان کیا اور تل ابیب سے سربیا کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہون نے کہا کہ سربیا کبھی نہیں بھولے گا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کوسوو کی علیحدگی کو نہ تسلیم کیا ہے اور نہ ہی تسلیم کرے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha