جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کا خاتمہ، وفود مشاورت کیلئے اپنے ممالک واپس روانہ ہوگئے

   تہران، ارنا- ویانا میں منعقدہ مشترکہ کمیشن کا اجلاس، جو ایران کیخلاف پابندیوں کو ختم کرنے اور ایٹمی معاملات کے دونوں شعبوں میں ورکنگ گروپوں کے مذاکرات اور مشاورت کے نتائج کا جائزہ لینے کیلئے انعقاد کیا گیا تھا، کچھ گھنٹوں قبل ختم ہوا۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے مطابق، ویانا کے گرینڈ ہوٹل میں منعقدہ ایران جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس کچھ گھنٹوں قبل ختم ہوا؛ مذاکرات آئندہ ہفتے میں از سر نو جاری رہیں گے۔

اس اجلاس میں جوہری معاہدے کے رکن ممالک کے مذاکراتی وفود کے سربراہوں نے تکنیکی بات چیت کی تازہ ترین صورتحال، متون کے ابتدائی مسودے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔ 

آج کی اجلاس میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور "سید عباس عراقچی" نے جوہری معاہدے سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چیلنجوں کے باوجود مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مذاکرات طویل ہونے، وقت ضائع کرنے اور غیر اصولی باتوں کی سمت جائیں تو ایرانی وفد، مذاکرات کو چھوڑے گا۔

اجلاس میں شریک ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں موجودہ ماہر گروپوں (پابندیوں کی منسوخی اور ایران جوہری سرگرمیاں) کے علاوہ آئندہ  ہفتے کے دوران ماہرین کا ایک تیسرا گروہ ، پابندیوں کی منسوخی سے متعلق ضروری اقدامات اٹھانے اور پھر اس معاہدے میں امریکی واپسی کا انتظام کرنے کیلئے تشکیل کیا جائے گا۔

اجلاس میں شریک وفود، اپنے اپنے دارالحکومتوں میں واپس جاکر مشاورت کرنے کے بعد، آئندہ ہفتے کے دوران، جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کا از سرنو آغاز کریں گے اور تکنیکی اور فنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha