نطنز جوہری تنصیبات کیخلاف حملہ جوہری دہشتگردی کی واضح مثال ہے: سنئیر پاکستانی تجزیہ کار

اسلام آباد، ارنا۔  پاکستانی تجزیہ کار برائے  بین الاقوامی امور اور  ممتاز وکیل  نے نطنز جوہری تنصیبات کیخلاف حالیہ تخریب کاری کاروائی اور اس حوالے سےعالمی جوہری ادارے کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے جوہری دہشتگردی کی واضح مثال قرار دے دیا۔

ان خیالات کا اظہار "سعید رسول" نے منگل کے روز  اسلام آباد میں تعینات ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی جوہری ادارے نےنطنز حالیہ حملے سے متعلق خاموشی اختیار کیا ہے اور اسے اس طرح کے موقف اپنانے سے ایک قابل قبول وجہ پیش کرنی ہے؛ کیونکہ یہ ایک دہشتتگردی اقدام ہے اور اس حوالے سے تہران کا موقف بھی جائز ہے۔

انہوں نے کہا کہ نطنز حالیہ حملے میں ملوثین کا مقصد دنیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کو تنھائی کا شکار کرنے اور  ویانا کے حالیہ جوہری مذاکرات میں روڑے اٹکانا ہے؛ جبکہ آئی اے ای اے سمیت بین الاقوامی نگرانی کے اداروں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ممالک، پرُامن جوہری پروگراموں پر عمل پیرا ہونے کے لئے آزاد ہیں اور اس عمل کو روکا نہیں جانا چاہئے یا اس کے خلاف غیر قانونی کارروائی نہیں کی جانی چاہئے۔

پاکستانی تجزیہ کار نے کہا کہ نطنز جوہری تنصیبات میں جو وقوع پذیر ہوا؛ ایک بار پھر خطے کے کچھ ممالک یا خصوصی طاقتوں کی مایوسی اور الجھن کو ظاہر کرتا ہے جو ایران کو معاشی اور سفارتی تنہائی کا شکار کرنے کی بدستور کوشش کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ایران کو اپنی پُرامن جوہری سرگرمیوں سے روکتے ہیں۔

رسول نے نطنز حملے میں ملوثین اور ان کے حامیوں کو خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان ممالک یا اداروں کو دنیا کی نئی حقیقتوں پر یقین رکھنا ہوگا؛ انہیں  یہ معلوم ہونا ہوگا کہ دنیا بدل چکی ہے اور روایتی اوزار اب موثر نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسی هجومونک دنیا میں نہیں رہتے جہاں ترقی پذیر ممالک وقتا فوقتا مغربی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں اور اب ایران، اپنی پرُامن جوہری پروگراموں کو تیار کرنے کے اپنے جائز حق کی تلاش میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں تنازعات کے خواہاں افراد یا ممالک کو یہ جان لینا چاہئے کہ امن ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، ورنہ کشیدگی میں اضافے سے اس خطے اور دنیا کے سنگین اور ناقابل تلافی نتائج برآمد ہوں گے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی جوہری ادارے کے ترجمان "بہروزکمالوندی" نے 11 اپریل کو کہا کہ نطنز کمپلیکس میں واقع یورینیم کو افزودہ کرنے کے پلانٹ کے بجلی سرکٹ کے ایک حصے میں حادثہ پیش آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حادثے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی آلودگی پھیلی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے اور اس حوالے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

ایران جوہری ادارے کے سربراہ نے اس حوالے سے کہا کہ نطنز جوہری تنصیبات کے یورینیم افزودہ کرنے والے پلانٹ میں حالیہ ناکام کاروائی، ایک طرف ایران کی سیاسی اور صنعتی ترقی میں رکاوٹیں حائل کرنے والے دشمن عناصر کی شکست اور دوسری طرف پابندیوں کی منسوخی پر ایران کے کامیاب مذاکرات کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی جوہری صنعت کے قومی دن کے موقع پر ایرانی جوہری سائنسدانوں کی تازہ ترین کامیابیوں کی رونمائی کی گئی اور پابندیوں کی منسوخی کا ویژن بھی واضح ہوگیا۔

صالحی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، اس اقدام کی شدت سے مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری اور عالمی جوہری ادارے کیجانب سے اس جوہری دہشتگری کیخلاف اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے اور اس حادثے میں ملوثین کیخلاف کاروائی کو اپنا قانونی حق سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حادثے میں ملوثین کے مقاصد کو ناکام بنانے کے سلسلے میں ہم مزید سنجیدگی سے اپنی جوہری ٹیکنالوجی کا فروغ دیتے ہوئے ملک کیخلاف غیرقانونی پابندیوں کو اٹھانے کی بھر پور کوشش کریں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha