ویانا کے مذاکرات میں کامیابی/ سعودی عرب کیساتھ مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہیں

تہران، ارنا - وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم جوہری معاہدے کے ساتھ کوئی نئے معاہدے پر دستخط کرنے کا خواہاں نہیں نہیں ہیں اور پچھلی امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کا مقصد جوہری معاہدے میں امریکہ کی واپسی کو مشکل بنانا تھا۔

یہ بات سعید خطیب زادہ نےآج بروز پیر ایک ورچو‏ئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے گذشتہ ہفتے میں خارجہ پالیسی کی تبدیلیوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ہفتے ظریف نے عراقی قومی سلامتی کے مشیر سے ملاقات کی۔ لاوروف نے منگل کے روز تہران کا دورہ کیا جہاں ظریف نے اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی جس کے نتیجے میں ثقافتی تعاون کے یادداشت پر دستخط ہوئے۔ لاوروف نے ایرانی صدر اور پارلیمنٹ کے اسپیکر سے بھی ملاقات کی۔

ایرانی ترجمان نے ویانا میں مذاکرات کے تسلسل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو ویانا میں جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔

خطیب زادہ کے کہنے کے مطابق ظریف نے جمعہ کے روز اپنے افغان ہم منصب اتمر سے بات کی۔ ہفتے کے روز سربیا کے وزیر خارجہ نے ایران کا دورہ کیا۔ ظریف نے کل انڈونیشیا کا دورہ کیا اور آج ملاقات کر رہے ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ بھی بدھ کو ایران پہنچیں گے۔

٭٭ سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہیں

انہوں نے ایران اور سعودی مذاکرات کے بارے میں ایک برطانوی میڈیا کی خبر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے میڈیا  کی رپورٹس دیکھی ہیں۔ اس حوالے سے متضاد حوالوں کو شائع کیا گیا ہے۔ ایران سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس مسئلے کو علاقائی امن و استحکام کے قیام اور دونوں ممالک کے عوام کے مفاد کو سمجھتا ہے۔

 ٭٭ایران روس تعاون معاہدے ازخود تجدید کیا جاتا ہے

انہوں نے روسی وزیر خارجہ کے دورہ تہران اور تہران -ماسکو کے مابین تعاون کے جامع تعاون کے دستاویز پر دستخط نہ کرنے کے بارے میں کہا کہ دو متوازی دستاویزات مکمل ہو رہی ہیں۔  ایران روس تعاون معاہدے ہر پانچ سال بعد ازخود تجدید کیا جاتا ہے۔

٭٭ایران پاکستان تعلقات اہم ہے / تیسری مشترکہ سرحد کھولنے پر تبادلہ خیال

ترجمان وزارت خارجہ نے پاکستانی وزیر خارجہ کے دورہ تہران کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات گہرا ہیں اور اس دورے میں باہمی امور پر تبادلہ خیال کرنے کے علاوہ  ہم پاکستان میں ایک تیسری مشترکہ سرحد کھولیں گے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURD

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha