ایرانی فوجی ادارے پہلے سے کہیں زیادہ اپنی ذمہ داریوں سے پیشہ ورانہ طور پر واقف ہیں

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ممکلت نے کہا ہے کہ ایران کی قومی سیکورٹی کا تحفظ سے قومی سالیمت کے تحفظ سے جوڑا ہوا ہے اور ایران کیخلاف مسلط کردہ جنگ اور مقدس دفاع کے میراث کے تجربات کی وجہ سے ایران کی فوج اور پاسداران اسلامی انقلاب فورسر پہلے سے کہیں زیادہ اپنی ذمہ داریوں سے زیادہ پیشہ ورانہ طور پر واقف ہیں۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے آج 18 اپریل  ایرانی قومی کلینڈر میں 29 فرودین)؛ مطابق ایرانی قومی فوجی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں مزید کہا ہے کہ ہر قوم اپنی طاقت ور فوج پر فخر کرتی ہے، اور ہر فوج اپنی پُرجوش اور عظیم قوم پر فخر کرتی ہے؛ قومیں فوجوں کے بغیر بے دفاع ہیں، اور فوجیں لوگوں کے بغیر بے دفاع ہیں اور حکومتیں ان دونوں "سرمایے" کے بغیر"سدی مرصوص" ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ  باشبہ، فوجوں کا جواز ان کی قربانی، حب الوطنی اور قومی سلامتی، آرڈر، قومی اتحاد اور علاقائی سالمیت سے وفاداری میں ہے؛ لیکن افواج کے قوموں سے تعلقات حکومتوں کے تعلقات سے زیادہ حکمت عملی کے حامل ہیں۔

صدر روحانی نے کہا کہ حکومتوں کو اقتدار میں رہنے کیلئے قوموں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جب کوئی قوم کسی حکومت سے عدم اطمینان حاصل ہوجاتی ہے اور اس سے منہ موڑ لیتی ہے تو اس وقت یہ فوج ہے جسے قوموں اور حکومتوں کے مابین ایک کو چن کر کرکے فیصلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوجیں مسلح ہیں، لیکن ان کے ہتھیاروں کا نشانہ قوموں کے دشمن کی طرف ہے ہیں، قوموں کا نہیں؛  یقینا فوجیں انتظامی طور پر حکومتوں اور حکومتوں کی حصہ ہیں، لہذا قانون کے مطابق ان کو حکومتوں کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ یہ ایک جمہوری اصول ہے کہ سپاہی کمانڈر کی اطاعت کرتا ہے؛ لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ فوجوں کو ایسی حکومت کی حمایت کرنی ہوگی جس نے اپنے عوام کے ساتھ دھوکہ نہ کیا ہو۔

انہوں نے کہا کہ اڑتالیس سال پہلے، جب ایرانی قوم نے بادشاہت سے منہ موڑ لیا اور آمریت کے خلاف انقلاب برپا کیا، اور پہلوی حکومت نے اپنی بقا کے لئے فریب سے فوج کی طرف رجوع کیا، اور اس سے انقلاب کے خلاف بغاوت کا مطالبہ کیا تو اس وقت فوج نے قوم کیساتھ کھرا رہنے کا فیصلہ کیا؛ کیونکہ فوج قوم کے عظیم سمندر کا حصہ ہے اور ایرانی فوج اور خطے میں دیگر فوجوں کے مابین یہی فرق ہے۔

 صدر روحانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں قائد اسلامی انقلاب کو بطور کمانڈر ان چیف کے عہدے پر تقرری بھی، تمام مسلح افواج بشمول اسلامی انقلابی گارڈ کارپس کو حکومتوں اور جماعتین کے تسلط سے بچانے کی ضرورت کی علامت ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ممکلت نے کہا ہے کہ ایران کیخلاف مسلط کردہ جنگ، مقدس دفاع کے میراث کے تجربات کی وجہ سے ایران کی فوج اور پاسداران اسلامی انقلاب فورسر پہلے سے کہیں زیادہ اپنی ذمہ داریوں سے پیشہ ورانہ طور پر واقف ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی قومی سیکورٹی کا تحفظ سے قومی سالیمت کے تحفظ سے جوڑا ہوا ہے ۔

صدر روحانی نے کہا کہ ایران کا قومی اتحاد صرف جمہوریت کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ آپ (فوج) انقلاب کی فوج ہی؛ آپ انقلاب کے سپاہی اور کمانڈر ہیں اور صرف انقلاب کی اقدار کا تحفظ کرکے انقلاب کی حفاظت کرتے ہیں؛ آزادی جمہوریہ اسلام کا مطلب یہی ہے ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ "سرحدوں" کا دفاع ایران کی "آزادی" کا دفاع ہے؛ "ووٹوں" کا دفاع ایران کی "آزادی" کا دفاع ایران کی "جمہوریہ" کا دفاع ہے اورر "اقدار" کا دفاع ایران میں "اسلام پسندی" کا دفاع ہے۔

 صدر روحانی نے کہا کہ فوج کا مشن صرف ایک فوجی مشن نہیں ہے اور یہ کوئی سیاسی مشن بھی نہیں ہے، فوج کا مشن صرف وطن کے راستے میں شہادت نہیں ہے اور فوج  کا مشن سیاسی مقابلوں میں داخل ہوناہی نہیں ہے؛ فوج کا مشن قومی مشن ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکمت اور امید کی حکومت کے ان 8 سالوں میں، خاص طورایران کیخلاف مسلط  کردہ معاشی جنگ کے 4 سالوں میں، فوج اور پاسداران اسلامی انقلاب نے مقدس دقاع کے 8 سالوں کی طرح قومی مفادات کے تحفظ کیلئے بھر پوری کوشش کی۔

صدر روحانی نے کہا کہ  نہوں نے اپنے چہروں کو روشن کیا اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا کہ دشمن کبھی جنگ کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان مشکل سالوں کی معاشی جنگ کے دوران، مسلح افواج نے ملک کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کیا ہے اور آج کے دور سے فوج کا مورال پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha