خطے کو صہیونی ریاست کی موجودگی سے خطرات کا سامنا ہے: ایرانی صدر

تہران، ارنا- ایرانی صدر نے علاقائی مسائل اور بحران بشمول یمنی بحران کو مذاکرت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کو صہیونی ریاست کی موجودگی سے خطرات کا سامنا ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے آج بروز منگل کو امیر قطر "شیخ تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی" سے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے امیر قطر، قطری حکومت اور عوام کو رمضان الکریم کی آمد پر مباردکباد دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان بالخصوص تجارتی اور معاشی شعبوں میں تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔

صدر روحانی نے علاقائی مسائل سے متعلق قطری موقف کا خیر مقدم کرتے ہوئے علاقائی مسائل اور بحران بشمول یمنی بحران کو مذاکرت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کو صہیونی ریاست کی موجودگی سے خطرات کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں امن، استحکام اور سلامتی کے قیام کا واحد راستہ، خطی ممالک کے درمیان پُرامن طریقوں اور ذمہ داری سے مسائل کا حل ہے جس سے پورے علاقے کے مفادات کی فراہمی ہوگی۔

صدر روحانی نے ویانا میں جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس اور اس معاہدے میں امریکی واپسی سے متعلق کہا کہ جوہری معاہدے میں امریکی واپسی کا واحد راستہ، پابندیوں کی منسوخی اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 پر عمل درآمد ہے اور بلاشبہ ان اقدامات کے بعد ایران بھی اپنے جوہری وعدوں پر پوری طرح عمل کرے گا۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کردیا کہ امریکی حکام کو حالیہ سالیہ کے دوران، اس بات کا پتہ چل گیا کہ باندیوں اور دباؤ سے کچھ حل نہیں ہوگا اور ان کا واحد آپشن، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور 7 ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں واپسی ہے۔

صدر روحانی نے قطر سے تمام شعبوں میں باہمی تعلقات کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔

دراین اثنا امیر قطر نے رمضان الکریم کی آمد پر مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان بالخصوص نقل و حمل کے شعبوں میں تعلقات کی توسیع پر زور دیا اور کہا کہ ایران اور قطر کو اس حوالے سے اپنے ساری صلاحیتوں کو بروئے کا لانا ہوگا۔

انہوں نے ویانا میں ایران جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے مذاکرات کے آغاز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ سارے فریقین اپنے وعدوں پر عمل درآمد سے اس کثیر الجہتی معاہدے کی بحالی کے شرایط کی فراہمی کریں گے۔

امیر قطر نے ایک بار پھر صدر روحانی کو دورے قطر کی دعوت دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ اس دورے میں دونوں ملکوں کے حکام باہمی اور علاقائی دلچسبی امور پر تعمیری مذاکرات کر سکیں گے۔ 

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha