خلیج فارس کے علاقے میں صیہونی رجیم کی موجودگی خطرناک ہے: صدر روحانی

تہران، ارنا – ایرانی صدر نے امریکی یکطرفہ اقدامات کے مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج فارس کے علاقے میں صیہونی رجیم کی موجودگی خطرناک ہے ۔

یہ بات حسن روحانی نے آج بروز منگل ایران کے دورے پر آئے ہوئے روسی وزیر خارجہ کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نےعلاقائی امور میں امریکی یکطرفہ اقدامات اور علاقائی امور میں مداخلت کے روکنے اور خطے میں امن و استحکام قائم کرنے کے مقصد کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے فروغ کا خیر مقدم کیا۔

صدر روحانی نے خطے میں سلامتی، امن اور استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم  ایران اور روس کے مابین دفاعی اور فوجی تعاون کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے ایٹمی مذاکرات سے ماسکو کے مؤقف اور حمایت کی تعریف کرتے ہوئے ایک کثیرالجہتی بین الاقوامی معاہدے کے طور پر جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے اور اس کی بحالی کے لئے کوششوں کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

روحانی نے کہا کہ آج امریکہ اور پوری دنیا اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ ناکام ہوچکا ہے اور جوہری معاہدے میں واپس آنے کا واحد راستہ  پابندیوں کی منسوخی ہے۔

روحانی نے کہا کہ اس سلسلے میں دونوں ممالک کا اقدام جوہری معاہدے سمیت بین الاقوامی امور پر  مشترکہ موقف کی علامت ہے اورآج بھی جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لئے دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون یقینی طور پر بہت موثر ہوگا۔

صدر روحانی نے کہا کہ در حقیقت ، ہم چاہتے ہیں کہ تمام فریقین سنہ 2015 کو طے پانے والے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کریں۔

انہوں نے یمن اور شام سمیت علاقائی مسائل اور بحرانوں کا حوالہ دیتے ہوئے خطے میں دو بااثر ممالک کی حیثیت سے ایران اور روس کے مابین باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے سیاسی اور علاقائی شعبوں میں دونوں ممالک کے مابین اچھے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے اقتصادی تعلقات کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ تیل اور توانائی کے منصوبوں کے نفاذ کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کورونا کے میدان میں روس کی کامیابیوں اور ویکسین بنانے میں کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے روسی ویکسین کی کھیپ کو تیزی سے ایران بھیجنے اور مشترکہ ویکسین پروڈکشن لائن کےقیام کی ضرورت پر زور دیا۔

روسی وزیر خارجہ نے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کیلیے دونوں ممالک کے پختہ عزم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو – تہران کے مابین تکنیکی اور دفاعی تعاون کے تعاون کی ترقی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

لاوروف نے علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات میں ایران اور روس کا مشترکہ اور قریبی اہداف کا ذکر کرتے ہوئے ویانا میں حالیہ مذاکرات اور جوہری معاہدے میں امریکی واپسی کے بارے میں کہا کہ ہمارے خیال میں مسئلے کا واحد حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے نفاذ کے ساتھ جوہری معاہدے میں امریکہ کی غیر مشروط اور مکمل واپسی ہے۔

انہوں نے تہران اور ماسکو کے مابین تعلقات کی ترقی اور گہرائی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ روس تعلقات کے فروغ دینے کے لیے معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے پر سنجیدہ ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURD

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha