ایران کے خلاف تمام پابندیوں کو غیر مشروط طور پر ختم کرنا ہوگا: روسی وزیر خارجہ

تہران، ارنا- روسی وزیر خارجہ نے کہاہے کہ جوہری معاہدے کے بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے اور ایران کے خلاف تمام پابندیوں کو غیر مشروط طور پر ختم کیا جانا چاہئے۔

یہ بات سرگئی لاوروف جو ایران کے دورے پر ہے، نے آج بروز منگل ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں ارنا کے نمائندے کے ایک سوال کے جواب  میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ ویانا کے مذاکرات اور جوہری معاہدے میں امریکہ کی واپسی کے بارے میں جوہری معاہدےکے کلیدی رکن کی حیثیت سے روس کی پوزیشن کے بارے میں ارنا کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارا موقف واضح ہے اور ایران کے خلاف تمام پابندیاں ختم کی جانی چاہئیں اور امید ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں ہٹانے سے دونوں ممالک کے  مزید تعاون کیلیے موقع فراہم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کی بحالی کا واحد راستہ یہ ہے کہ امریکہ کوئی پیشگی شرائط کے بغیر بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے وعدوں پر عمل کرے اور اگر امریکہ ایسا نہ کرے ممکن ہے کہ ایک خطرناک اقدام کا شکار ہوئے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں ایرانی فریق کے حوصلے کو مثبت سمجھتے ہیں۔

لاوروف نے تہران میں اپنی موجودگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج میں نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ اچھی بات چیت کی ہے۔

انہوں نےکہا کہ ہم فریقین کے مابین باہمی احترام چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی بات چیت بہت معنی خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان ٹرانسپورٹ اور ثقافتی امور کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر اچھی بات چیت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے مابین ایک ثقافتی معاہدہ طے پایا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعاون میں اضافہ ہوگا اور ہم نے کورونا کے خلاف جنگ اور روسی اسپوٹنک وی ویکسین جو ایرانی ماہرین کے مطابق ایک موثر اور بہترین ویکسین ہے، کی فراہمی کے بارے میں بھی بات چیت کی ہے اور ایران میں یہ ویکسین تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بہت خوش ہیں کہ روسی زبان کی ثقافت ایران میں اور اس کے برعکس روس میں دلچسپی پھیل گئی ہے اور حیاتیاتی تحفظ کے میدان میں ہم نے دونوں ممالک کے مابین تعاون بڑھانے کے لئے ایک دستاویز پر بھی دستخط کیے۔

انہوں نے کہا کہ ہرمز امن منصوبے کا خیرمقدم اور حمایت کرتے ہیں اور یہ منصوبہ خلیج فارس کی حمایت کے تسلسل میں ہے۔

لاوروف نے کہا کہ امن برقرار رکھنے کے لئے مذاکرات کے دوران پابندیاں عائد کرنا ایک بہت بڑی غلطی اور یہ کارروائی جرم سے بھی بدتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جوہری معاہدے کے نفاذ میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha