نائب ایرانی صدر کا جنوبی کوریا سے ایرانی مالی وسائل پر عائد پابندی کو جلد از جلد اٹھانے کا مطالبہ

تہران، ارنا- سنئیر نائب ایرانی صدر نے کہا ہے کہ کورین بینکوں کیجانب سے ایران کے مالی وسائل پر پابندی نے ایرانی عوام کے درمیان جنوبی کوریا کی پوزیشن اور ساکھ کو نقصان کا شکار کیا ہے لہذا؛ ہم جنوبی کوریا کی حکومت سے ایرانی مالی وسائل پر عائد پابندیوں کو جلد از جلد اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار" اسحاق جہانگیری" نے آج بروز اتوار کو ایران کے دورے پر آئے ہوئے جنوبی کوریا کے وزیر اعظم "چانگ سای کیون" کیساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ سال میں، ایران اور جنوبی کوریا کے درمیان ڈپلومٹیک تعلقات کی 60 ویں سالگرہ ہے؛ اسی عرصے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی سطح اچھی تھی اور مختلف کورین کمپنیاں ایران کے مختلف اقتصادی شعبوں میں سرگرم عمل تھیں؛ اور 2012ء میں باہمی تجارتی حجم کی شرح 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

نائب ایرانی صدر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی بے پناہ صلاحتیں ہیں اور مغربی اور مشرقی ایشیاء کے دو ایشیائی ممالک کی حیثیت سے ایران اور جنوبی کوریا، اقتصادی میدان میں ایک دوسرے کی مکمل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران، امریکی غیر قانونی پابندیوں کی جنوبی کوریا کی پیروی کی وجہ سے باہمی تعلقات کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہوئیں؛ اور ایران اور کوریا کے درمیان تعلقات کی سطح میں کمی ایک ایسا وقت آئی جب ایران کیخلاف کسی بھی بین الاقوامی پابندی عائد نہیں ہوئی تھی۔

جہانگیری نے کورین بیکنوں کیجانب سے گیس اور آئل کی قانونی فروخت سے حاصل شدہ 7 ارب ڈالر کی ایرانی رقم  پر عائد پابندیوں کو ایک غیر قانونی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے باہمی تعلقات کو مسائل کا شکار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوریا نے ایک ایسا وقت ایرانی مالی وسائل پر پابندیاں عائد کیں ہیں جب ایرانی عوام کو کورونا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ صحت کی مصنوعات اور طبی خدمات تک رسائی کیلئے ان رقوم کی انتہائی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایرانی حکومت کو طبی ساز و سامان اور ادویات کی خریداری میں مسائل کا شکار ہوا ہے۔

جہانگیری نے کہا کہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ ان مشکل حالات میں حتی کہ کورین کمپنیوں نے بھی ایران کو ادویات اور طبی سامان فروخت کرنے سے انکار کردیا اور ان اقدامات کے نتیجے میں ایرانی عوام کے درمیان جنوبی کوریا کی پوزیشن اور ساکھ کو نقصان کا شکارہوا ہے۔

انہوں نے جنوبی کوریا کے وزیر اعظم کے دورے ایران کا خیر قدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ ایران پر پہنچے گئے نقصانات کا ازالہ کرنے سے ایران میں اس ملک کی پوزیشن اور ساکھ کی بحالی ہوگی۔

سنئیر نائب ایرانی صدر نے جنوبی کوریا کی حکومت سے ایرانی مالی وسائل پر عائد پابندیوں کو جلد از جلد اٹھانے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ جنوبی کوریا کے وزیر اعظم چانگ سای کیون، آج بروزاتوار کو دورہ تہران پہنچ گئے، جہاں ایرانی وزیر برائے مواصلات اور شہری ترقی  محمد اسلامی" نے ان کا استقبال کیا۔

تفصیلات کے مطابق، چانگ سای کیون، ایران کا تین روزہ دورہ کرتے ہیں اور یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق توقع کی جاتی ہے کہ اسی دورے میں تہران اور سیول کے درمیان تعلقات کے فروغ پر فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے۔

یہ پچھلے 44 سالوں کے دوران، جنوبی کوریا کے کسی وزیر اعظم کا پہلا دورہ ایران ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنوبی کوریا کے وزیر اعظم، ایرانی صدر مملکت ڈاکٹر "حسن روحانی"، سنئیر نائب ایرانی صدر "اسحاق جہانگیری"، اسپیکر "محمد باقر قالیباف" اور ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر "علی لاریجانی" سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔

اس کے علاوہ وہ، ایران میں سرگرم جنوبی کورین کی کمپنیوں بشمول سیمسنگ الیکٹرانکس، ایل جی الیکٹرانکس اور ایس کے نیٹ ورک کے عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha