جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا ایجنڈا فریقین کیجانب سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کا جائزہ ہے

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ 6 اپریل کو ویانا میں منعقدہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس اور دوسرے اجلاسوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور اس اجلاس کا ایجنڈا، ایران کیخلاف امریکی ظالمانہ پابندیوں کی منسوخی و نیز فریقین کیجانب سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کا جائزہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سعید خطیب زادہ" نے آج بروز پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران، منگل میں جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کل میں منعقدہ اجلاس اور جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے دیگر اجلاسوں میں کوئی فرق نہیں ہے؛ یہ ایران اور 1+4 گروہ کے درمیان پچھلے کی طرح جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے متواتر اور موسمی اجلاسوں کے سلسلے میں ہے۔

خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کو مارچ میں منعقد کرنے کا فیصلہ تھا مگر میسر نہیں ہوا، نظام الاوقات کی مشکل کی وجہ سے اس اجلاس کے پہلے حصے کا انلائن انعقاد کیا گیا مگر دوسرا حصہ انلائن نہیں بلکہ فریقین کی شرکت سے منعقد ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ویانا میں منعقدہ مشترکہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کا ایجنڈا، ایران کیخلاف امریکی ظالمانہ پابندیوں کی منسوخی و نیز فریقین کیجانب سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کا جائزہ ہے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ کل، یہ دیکھنا ہے کہ 1+4 گروہ، ایران کے مطالبات پر پورا اتر سکتا ہے کہ نہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 10 =