امریکہ کے ساتھ کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات نہیں کریں گے: ایرانی عہدیدار

تہران، ارنا – نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے امریکہ کے ساتھ کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات نہیں کریں گے اور پابندیوں کو ہٹانا، امریکی اقدامات اور ان کی دیانتداری کی تصدیق سے متعلق ویانا میں 1+4 گروپ کے ساتھ ہماری بات چیت بالکل تکنیکی ہے۔

یہ بات سید عباس عراقچی نے اتوار کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ویانا میں جوائنٹ کمیشن میں ہمارا موقف حکومت کی مضبوط پوزیشنوں کے عین مطابق ہے جو سپریم لیڈر اور ملک کے عہدیداروں نے بار بار اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویانا میں امریکیوں کے ساتھ ہماری کوئی براہ راست یا بلاواسطہ بات چیت نہیں ہوگی۔ ہم مشترکہ کمیشن اور 1+4 ممالک کے ساتھ بات چیت کر کے جوہری معاہدے میں اپنی واپسی کے لئے اپنی شرط کا اعلان کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری واپسی کے لیے اپنا مطالبہ یہ ہے کہ امریکہ پہلے اپنی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے اور عائد تمام پابندیوں کو ختم کرے  اور پھر امریکہ کی دیانتداری کی تصدیق کے بعد اپنے وعدوں پر عمل کریں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہم کو‏ئی وار کوئی منصوبہ یا مرحلہ وار تجویز  کو قبول نہیں کرتے ہیں ہے اور ہم قبول نہیں کرتے کہ ہماری رائے میں ایک اور قدم ہے  اور وہ یہ ہے کہ امریکہ کو ٹرمپ کے دوران اور اس کے جانے کے بعد تمام  عائد پابندیوں کو ختم کرنا ہوگا اس کے بعد ہم بھی ان کی دیانتداری کی تصدیق کے بعد اپنے وعدوں کو پورا کریں گے۔

عراقچی نے کہا کہ ان کا حتمی قدم اور ہمارا حتمی قدم کی قطعی وضاحت ہونی چاہئے۔ یہ صرف 4 + 1 ممالک کے ساتھ ہماری تکنیکی بات چیت میں ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURD

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 1 =