ایران اور فرانس کے وزرائے خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ، جوہری معاہدے پر تبادلہ خیال

لندن، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے آج ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، منگل میں ویانا میں منعقدہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس پر تبادلہ خیال کیا۔

فرانسیسی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق، "ژان ایو لودریان" نے آج بروز ہفتے کو "محمد جواد ظریف" سے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، جوہری مذاکرات کا از سرنو آغاز اور اس معاہدے کے تحفظ میں یورپی ٹروئیکا کے کردار پر زور دیا۔

انہوں نے امریکی غیر تعیمری اقدمات اور یورپی ٹروئیکا کی بدعہدیوں کے ذکر کیے بغیر تہران سے جوہری وعدوں سے متعلق تعمیری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا عمل ایسا ہونا ہوگا جس سے جوہری وعدوں میں مکمل واپسی کی فراہمی ہوجائے گی۔

لودریان نے اس بات کا دعوی کیا کہ یہ جوہری معاہدے کے تمام فریفین بشمول امریکہ کی خواست ہے اور فرانس، مذاکرات کا عمل بڑھانے میں میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ تمام فریقین، نیکی تینی سے مذکرات میں ترقی اور معاہدے طے پانے میں دلچسبی رکھتے ہیں۔

لودریان نے یورپی فریقین کیجانب سے اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے پر بغیر تبصرے کے کہا کہ انہوں نے ایران سے اپنے جوہری وعدوں میں مزید کمی لانے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے 18 ویں اجلاس کا کل بروز جمعہ مطابق 2 اپریل کو آنلائن انعقاد کیا گیا۔

اجلاس میں شریک  فریقین نے، جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے تباہ کن اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے، اس معاہدے کے ثمرات سے ایران کے مستفید ہونے پر زور دیا۔

اس موقع پر ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے نائب ایرانی وزیر خارجہ نے ایران کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی پابندیوں کی منسوخی کو جوہری معاہدے کی بحالی کا پہلا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کی منسوخی ہی سے ایران اپنے جوہری وعدوں میں کمی لانے کو روکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے میں امریکی واپسی کیلئے کسی بھی مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے اور اس حوالے سے امریکہ کا راستہ بالکل واضح ہے؛ امریکہ جیسا کہ جوہری معاہدہ سے علیحدہ ہوگیا اور ایران کیخلاف پابندیاں عائد کیں ویسا ہی جوہری معاہدے میں واپس آکر پابندیوں کو منسوخ کر سکتا ہے۔

اجلاس کے اختتام میں فریقین نے جوہری وعدوں کو نبھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آئندہ ہفتے کے دوران، ویانا میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جوہری معاہدے کے اصولوں کے مطابق، مشترکہ کمیشن، اس معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کا ذمہ دار ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 9 =