ایرانی وفد امریکی وفد سے کوئی مذاکرہ نہیں کرے گا: عراقچی

تہران، ارنا- نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے کہا کہ ایرانی وفد، کسی بھی سطح پر امریکی وفد سے مذاکرات نہیں کرے گا اور ایران جس اجلاس بشمول جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن میں حصہ لے گا، اُس اجلاس میں امریکہ حصہ نہیں لے گا اور یہ یقینی ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سید عباس عراقچی" نے آج بروز جمعہ کو ویانا کے مستقبل اجلاس میں امریکی کی موجودگی سے متعلق سوال کے جواب میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ویانا کا اجلاس، جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اگلا اجلاس ہے جس میں ایران حصہ لے گا اور وہاں جوہری معاہدے میں امریکہ کی ممکنہ واپسی کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے اراکین بھی حالیہ اجلاس کے اراکین ہی ہیں۔

عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران جس اجلاس بشمول جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن میں حصہ لے گا، اُس اجلاس میں امریکہ حصہ نہیں لے گا اور یہ یقینی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کے دیگر فریقین کا اپنا فیصلہ ہے کہ ویانا یا دیگر اجلاسوں میں باہمی اور کثیر الجہتی طور پر امریکہ سے مذاکرات کریں۔

ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے کہا کہ ایرانی وفد، کسی بھی سطح پر امریکی وفد سے مذاکرات نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے 18 ویں اجلاس کا آج بروز جمعہ مطابق 2 اپریل کو آنلائن انعقاد کیا گیا۔

اجلاس میں شریک دیگر فریقین نے، جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے تباہ کن اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے، اس معاہدے کے ثمرات سے ایران کے مستفید ہونے پر زور دیا۔

اجلاس کے اختتام میں فریقین نے جوہری وعدوں کو نبھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آئندہ ہفتے کے دوران، ویانا میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جوہری معاہدے کے اصولوں کے مطابق، مشترکہ کمیشن، اس معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کا ذمہ دار ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha