1 اپریل، 2021 2:48 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 84281043
0 Persons
اب 1+5 گروہ کو اپنے وعدوں کو نبھانے کی باری ہے: صدر روحانی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے کہا ہے کہ آج کی صورتحال میں 1+5 گروہ کو اپنے وعدوں پر پورا اترنے کی ضرورت ہے اور ان کو جانا ہوگا کہ ہر ایک کی تاخیر بھی ان کے نقصان کا باعث ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے آج بروز جمعرات کو پانچ صوبوں میں 5 اہم صنعتی منصوبوں کے نفاذ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے یکم اپریل 1979ء (12 فروردین) کی سالگرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں جمہوریہ اسلامی جمہوریہ کی صحیح معنوں کی پاسداری کرنی ہوگی اور ہمیں جمہوریہ، اسلام اور ایرانیت کو محفوظ رکھنا ہوگا۔

صدر روحانی نے ایران سے متعلق امریکی عہددیداروں کی بہت کم علمی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران سے متعلق امریکی عہدیداروں کی بہت کم معلومات مضحکہ خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا پھیلنے کے ابتدائی دن بہت سخت گزرگئے؛ اسی وقت ٹرمپ نے کسی اور ملک کے ایک عہدیدار کو کہا تھا کہ ہم کورونا وبا کی وجہ سے ایران کی مدد پر تیار ہیں اور ان کی مدد 4 وینٹی لیٹر تھے؛ تو ہم نے ٹرمپ کو کہا کہ آپ کو جتنے وینٹی لیٹر مشین کی ضروت ہے ہم ان کو امریکہ میں برآمد کرنے پر تیار ہیں۔

صدر روحانی نے کہ امریکی حکام اب بھی، ایران کو بخوبی نہیں پہچانتے ہیں؛ وہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے بھی ایران کو نہیں پہچانتے تھے۔ اگر وہ ایک ہی وفعہ اس سنہری سرزمین کو سمجھتے تھے تو وہ کسی اور طریقے سے سلوک کرتے تھے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ قائد اسلامی انقلاب کے مطابق، اگر وہ جوہری معاہدے میں واپس آئیں اور اپنے وعدوں پر عمل کریں تو ہم بھی اپنے وعدوں پر پورا اتریں گے؛ یہ ایک جیٹ ڈیل ہے؛ لیکن امریکیوں نے ابھی اس بات کو نہیں سمجھا ہے اور اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔

صدر روحانی نے کہا کہ وہ ابھی بھی اس سلسلے میں ٹال مٹول کرتے ہیں اور ان کے پیغامات سے ظاہر ہوتی ہے وہ امریکی نئی انتظامہ ایران کی حقیقت سے دور ہے۔

 انہوں نے 2020 میں ایران میں پیداوار کے فروغ کے سال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسی عرصے کے دوران، 36 ہزار پیداواری یونٹوں کے قیام کا جواز دیا گیا اور پیداوار کے فروغ کی راہ مزید ہموار ہوگئی۔

ایرانی صدر نے کہا کہ وہ جو ایران جوہری معاہدے کو اعلی ترین سیاسی معاہدے جانتے ہیں ان کو جانا ہوگا کہ اس معاہدے کی بھاری بوجھ ایرانی عظیم قوم کے کنھڈے پر ہے۔

انہوں نے ایرانی عوام کیخلاف امریکی معاشی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کبھی بھی جنگ کا آغاز نہیں کیا؛ ہمارے خلاف جنگ مسلط کی گئی؛ ہم نے ایک سال کیلئے اپنے تمام وعدوں پرعمل کیا جو سیاسی، اخلاقی اور تاریخی کے لحاظ سے ہمارے لیئے فخر کی بات ہے؛ کیونکہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے باوجود ہم نے صبر و مزاحمت کا طریقہ اپنایا اور آخر کار دیگر فریقین کیجانب سے اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہم نے مئی 2020 سے اپنے وعدوں میں کمی لانے کا فیصلہ کیا۔

صدر روحانی نے کہا کہ آج کی صورتحال میں 1+5 گروہ کو اپنے وعدوں پر پورا اترنے کی ضرورت ہے اور ان کو جانا ہوگا کہ ہر ایک کی تاخیر بھی ان کے نقصان کا باعث ہوگا اور اگر وہ جلد از جلد قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 پر عمل کریں اور ایرانی عظیم قوم کا احترام کریں تو یہ ان کے مفاد میں ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 12 =