ایرانی کونسل برائے انسانی حقوق کا مغربی ایشیا میں امریکی جرائم کیخلاف قانونی کاروائی پر زور

تہران، ارنا- ایرانی کونسل برائے انسانی حقوق کے سیکرٹری نے مغربی ایشیا میں امریکی جرائم پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کیخلاف قانونی کاروائی پر زور دیا۔

ان خیالات کا اظہار "علی باقری کنی" نے آج بروز جمعرات کو ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا۔

انہوں نے مغربی ایشیا میں امریکی جرائم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "شام میں داعش کی حمایت (جنرل فلین کے مطابق)، القاعدہ کی حمایت (جک سالیوان کے مطابق)، یمن کیخلاف حملے اور "محمد بن سلمان" کے ذریعے اس ملک کی اقتصادی ناکہ بندی میں تعاون، بے بنیاد وجوہات کی بنا پرعراق کیخلاف حملے اور ایک ملین سے زائد افراد کا قتل، ایٹمی ہتیھاروں کا استعمال کرنے والی واحد حکومت کیجانب سے انسانی حقوق کی گھناؤنی خلاف ورزی؛ وہ جرائم ہیں جن کیخلاف قانونی کاروائی کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی کونسل برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے اشاعت کیے گئے حالیہ ایمیل پر تبصرہ کیا ہے جس میں امریکی صدر بائیڈن انتظامیہ کی قومی سلامتی کے مشیر جک سالیوان نے کھلی طور پر کہا ہے کہ "شام کی تبدیلیوں میں القاعدہ نے امریکہ کا ساتھ دیا ہے"۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سالیوان جو اس سے پہلے نائب امریکی وزیر خارجہ کے عہدہ پر فائز تھے اور اب بھی وائٹ ہاوس میں اہم عہدہ سنبھالیا ہے، نے اس بات پر زور دیا تھا کہ "اوباما کے دور میں القاعدہ واشنگٹن کیساتھ کھڑا تھا "

اس کے علاوہ، پینٹاگون کے دفاعی انٹلیجنس کے سابق ڈائریکٹر مائیکل فلین نے الجزیرہ ٹی وی چینل سے انٹرویو دیتے ہوئے داعش دہشت گرد گروہ کی تشکیل میں امریکی کردار کو واضح طور پر تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ شام میں انتہا پسندوں کی نشو نما، امریکی حکومت کے دانستہ فیصلے کا نتیجہ تھا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha