یزد؛ پانچ عالمی رجسٹرڈ کاموں کا وارث اور کچی مٹی سے بنے ہوئے دنیا کا پہلا شہر

یزد، ارنا- ایرانی صوبے یزد میں 2،270 ایکڑ کے رقبے پر پھیلی ہوئی تاریخی ساخت اور 6،500 تاریخی یادگاریں ہیں جن میں سے 1،720 قومی سطح پر رجسٹرڈ اور پانچ کام یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں رجسٹر کیے گئے ہیں۔

پرانے اور تاریخی صوبے یزد کو "ایران کی ڈائری" کا لقب دیا جا سکتا ہے؛ ایک ایسا صوبہ جہاں 4،500 سال پرانا "ابرکوہ" صنوبر اب بھی دنیا کی قدیم ترین جانداروں میں سے ایک موجود ہے۔

یزد شہر، اٹلی کے شہر وینس کے بعد دنیا کا دوسرا تاریخی شہر ہے جو ہرسالہ ہزاروں سیاح، اس صوبے کی سیاحتی اور تاریخی دلچسبیوں سے حظ اٹھانے کیلئے یزد کا رخ کرلیتے ہیں۔

صوبے یزد؛ متعدد مذہبی عمارتوں، مقبروں، مساجد، حسینیہ، زرتشت برادری کی اہم زیارتی مقامات، تاریخی مکانات، آبی ذخائر، تاریخی باغات، ونڈ ملز اور مختلف بازاروں پر مشتمل ایرانی فن، ثقافت اور تہذیب کا خزانہ ہے۔

صوبے یزد کو کچی مٹی سے بنے ہوئے دنیا کے پہلے شہر اور وینس کے بعد دنیا کے دوسرے تاریخی شہر، ونڈ ملز، کام اور کاریز اور ٹھچ، دارالعبادہ، دار العلام اور دارالامال، ایران کے حسینیہ، سائیکلوں کا شہر، مٹھائیوں کا شہر، قنات و قنوت و قناعت کے القاب سے پہچانا جاتا ہے۔

صوبے یزد فارس اور اصفہان کے صوبوں کیساتھ ایران کی سیاحت کی سنہری مثلث کے طور پر غیر ملکی سیاحوں کی پہلی منزل ہے۔

اگرچہ کورونا کی وبا نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے اور سیاحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے لیکن کوویڈ- 19 پر قابوپانے سے ایران اور یزد کی سیاحتی صنعت میں پھر سے رونقیں بڑھنے لگیں گی۔

صوبے یزد جو کئی ہزار سالوں کی تہذیب کے حامل ہے، میں بہت ساری تاریخی اور ثقافتی یادگاریں ہیں اور اب تک پانچ تاریخی کام جس میں "یزد کی تاریخی ساخت"، "دولت آباد" اور "پہلوان پور" کے باغات، "زارچ"، "حسن آباد مشیر و دہنو" کے کاریز شامل ہیں، کو عالمی ثقافتی تنظیم یونیسکو میں رجسٹر کیا گیا ہے اور اس شہر کو دنیا بھر میں مزید مشہور کردیا گیا ہے۔

یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی نے 9 جولائی 2017ء کو پولینڈ کے شہر کراکو میں اپنے اڑتالیس اجلاس میں متفقہ طور پر یزد کی تاریخی ساخت کے ایک حصے کو عالمی ثقافتی تنظیم کے ثقافتی ورثوں کی فہرست میں رجسٹر کرلیا۔

یزد کی انوکھی تاریخی یادگاروں میں سے ایک "دولت آباد" گارڈن ہے جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں ایک انتہائی خوبصورت ایرانی باغیچے کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور کورونا وائرس پھیلنے سے پہلے ہی ان گنت سیاح اس کا دورہ کرتے ہوئے کافی حظ اٹھاتے تھے۔

"پہلوان پور مہریز" باغات بھی قاجاریہ عہد سے تعلق رکھتے ہیں جو 3۔5 ہیکڑ کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور اس میں ایک انتہائی شاندار اور خوبصورت محل موجود ہے؛ جس کو بھی عالمی ثقافتی تنظیم یونیسکو کی فہرست میں رجسٹرد کرلیا گیا ہے۔

دولت آباد گارڈین

"زارچ" تاریخی کاریز کو تین ہزار سال کی تاریخ اور 83 کلومیٹر لمبائی کیساتھ 2016ء میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں دنیا کے سب سے طویل کاریز کے طور پر رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔

"حسن آباد مشیر دہنو" کاریز کو 16 جولائی 2016ء میں زارچ کاریز اور خراسان رضوی، جنوبی خراسان، کرمان، مرکزی اور اصفہان صوبوں کے 9 دیگر ایرانی کاریزوں کیساتھ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں رجسٹر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ یزد میں روایتی رہائش گاہوں کی تعداد 38 ہے اور اس صوبے میں ایکو ٹور کی تعداد 146 ہے؛ اور رہائش گاہوں کی گنجائش جن میں ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، ایکو ٹورزم اور روایتی کنٹین شامل ہیں، روزانہ 11،510 افراد ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ نومبر 2016ء کی مردم شماری کے مطابق صوبے یزد کی آبادی تقریبا 12 لاکھ ہے۔

 **9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 2 =