پابندیوں سے شامی بحران مزید طویل ہوجائے گی: ایرانی مندوب

نیویارک، ارنا- اقوام متحدہ میں تعینات ایران کے مستقل مندوب نے شام کیخلاف یکطرفہ پابندیوں کے نفاذ کو ایک نقصان دہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پابندیوں سے شامی بحران مزید طویل ہوجائے گی اور شامی عوام کے مصائب بشمول کورونا وبا کی صورتحال اور ابتر ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار "مجید تخت روانچی" نے آج بروز پیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام میں انسانی صورتحال سے متعلق منعقدہ اجلاس کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2021ء میں شام میں قحط کے خطرے سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ میں اس چیلنج کا مقابلہ کرنے میں بین الاقوامی امداد کی جلد ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ایرانی مندوب نے کہا کہ اگرچہ ضرورت مندوں کو انسانہ دوستانہ امداد کی فراہمی انتہائی اہم اور ضروری ہے تا ہم یہ طویل عرصے میں اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوگی اور یہ شام میں قیام امن اور پائیدار استحکام کی ضمانت کیلئے اقدامات کی جگہ نہیں لے سکتی۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سب سے پہلا اور اہم اقدام، شامی خودمختاری اور قومی سالیمت کے تحفظ کی ضمانت ہے جو دہشتگردوں کی تباہی، غیرملکی فوجیوں کے انخلا، شام پر قبضے کے خاتمے اور شامی سرحدوں میں قیام سیکورٹی سے فراہم ہوجائے گی۔

تخت روانچی نے کہا کہ شامی بحران کے حل میں بنیادی ڈھانچوں کی از سرنو تعمیر، تارکین وطن کی وطن واپسی کیلئے مناسب اقدام اٹھانے اور شامی سیاسی عمل میں مزید ترقی کو اس حوالے سے دیگر ضروری اقدامات قرار دے دیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شامی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس بحران کا صرف حل، بین الاقوامی حقوق کے عین مطابق پُرامن طریقے اپنانے کا ہے؛ جو قلیل عرصے میں مسیر نہیں ہوگا لہذا؛ اس حوالے میں ترقی کو دیگر شعبوں میں ترقی کے برابر قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ایرانی مندوب نے شامی پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور شامی عوام کی انسان دوستانہ امداد کو سیاسی رنگ دینے پر وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ جبکہ 10 سال کے تنازعہ نے شام کی معاشی صورتحال پر منفی اثر ڈالا ہے؛ مزید بگڑتے معاشی حالات پر یکطرفہ پابندیوں کے تباہ کن اثرات بھی واضح ہیں۔

تخت روانچی نے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ کچھ ممالک جو شام میں فوجی ذرائع یا سیاسی فائدہ اٹھانے کے ذریعے اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ہوگئے ہیں؛ اب انہوں نے پابندیاں عائد کرکے کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کو بطور ہتھیار استعمال کردیا ہے حالانکہ کسی قوم کی غذائی تحفظ کو خطرے سے دوچار کرنا غیر منصفانہ اور ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ پابندیوں کا مقصد کسی قوم کی اجتماعی سزا ہے، اور یہ اقوام متحدہ کے اہداف اور اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے لہذا اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہئے۔

ایرانی مندوب نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، شامی بحران کے سیاسی حل، شامی خودمختاری اور قومی سالیمت کے تحفظ کی ضمانت پر شامی عوام کی حمایت پر زور دیتا ہے۔

 **9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha