صرف پابندیاں ہی ایران اور یورپ کے تجارتی تعلقات کی توسیع کی راہ میں رکاوٹ ہیں

تہران، ارنا- ایرانی تجارتی ترقیاتی تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل برائے امریکی اور یورپی امور نے کہا ہے کہ پابندیوں کی منسوخی سے ایران سے یورپی یونین میں مصنوعات کی درآمدات اور برآمدات میں بے پناہ مواقع کی فراہمی ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار "بہروز الفت" نے پیر کے روز ارنا نمائندے کیساتھ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے یورپ سے ایران میں مصنوعات کی درامد کی شرح 15 ارب ڈالر اور ایران سے یورپ میں مصنوعات کی برامد کی شرح 2 ارب ڈالر تھی حالانکہ اسی عرصے کے دوران، ایران اور یورپ کے درمیان مجموعی تجارت میں ایک تہائی کی کمی نظر آئی ہے۔

الفت کا کہنا ہے کہ پچھلے 11 مہینوں کے دوران، ایران اور یورپ کے درمیان مصنوعات کی برآمد کی شرح 50 کروڑ اور درآمد کی شرح 4 ارب 50 کروڑ تھی جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 33 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد، یورپ کیساتھ ایران کی تجارت کو دو تہائی سے منفی رجحان کا سامنا کرنا پڑا۔

الفت نے کہا کہ امریکہ میں نئی انتظامیہ برسرکار آنے کا ایران کیلئے جب فائدہ مند ہوگا تب پابندیوں کی صورتحال واضح ہو کیونکہ اب پابندیوں کی وجہ سے ایران اور بہت سارے ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ایران کیخلاف عائد پابندیاں اٹھائی نہیں جائیں گی تب تک ایران کیلئے امریکہ میں بر سرکار آنے والے افراد میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ایرانی ترقیاتی تنظیم کے سربراہ برائے یورپی اور امریکی امور کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران، صرف جوہری معاہدے میں امریکی واپسی اور پابندیوں کی منسوخی کی بات ہوئی ہے لیکن ہمیں اس حوالے سے تبدیلی آنے کی کوئی علامت نظرنہیں آئی ہے اور کوئی وعدے کا نفاذ نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک کہ عالمی مالیاتی نظام، یورپی بینکوں اور کاروباری اداروں کو ایران کیساتھ تجارت کیلئے سبز روشنی نہیں دے گا، اس وقت تک یورپی کمپنیوں کیساتھ معاشی تجارت میں اضافے کا بہت کم امکان ہے اور وعدوں کیساتھ تجارت میں اضافہ ممکن نہیں ہوگا۔

الفت کا کہنا ہے کہ ایران جوہری معاہدے میں امریکی واپسی جب فائدہ مند ہوگا تب ایران کیخلاف عائد پابندیوں کو مکمل طور اٹھایا جائے گا اور ایران اور دنیا کے درمیان تجارت معمول ہوگا اور کسی بھی بندرگاہ سے کسی بھی سامان کی منتقلی اور کسی بھی بینک سے رقوم کی منتقلی کا امکان فراہم ہوجائے گا۔

** 9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 13 =