ایران میں موجودہ حکومت کے دوران بجلی گھروں میں گیس کی فراہمی میں 91 فیصد کا اضافہ

تہران، ارنا- ایران میں "تدبیر اور امید" حکومت کے برسرکار آنے کے ابتدا ہی میں بجلی گھروں میں گیس کی سالانہ فراہمی 34 ارب مکعب میٹر تھی؛ لیکن گیس نیٹ ورک کی توسیع اور پیداوار میں اضافے کیساتھ اب اس کی سالانہ مقدار، 65 ارب مکعب میٹر تک پہنچ گئی ہے۔

واضح رہے کہ تدبیر اور امید کی حکومت کا ایک اہم اور کامیاب اقدام، گیس کی فراہمی ہے؛ گزشتہ 7 سالوں کے دوران ملک میں گیس کی فراہمی میں فروغ، ایسی صورتحال میں ہوئی جب نیشنل گیس کمپنی اور محکمہ تیل نے اس حوالے سے حکومت کے بجٹ کا استعمال نہیں کیا اور ان کی سرگرمیاں مکمل طور پر مائع ایندھن کی کھپت میں بچت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر مبنی ہیں۔

ایران میں حالیہ سالوں کے دوران، 20 سے زائد گھرانے والے گاؤں تک گیس کی رسائی کی فراہمی کی گئی ہے اور اب ملک کی 95 فیصد کی آبادی گیس کی نعمت سے مستفید ہے۔

لیکن تدبیر اور امید کی حکومت میں گیس کی فراہمی کی توسیع، شہروں اور دیہات تک ہی محدود نہیں رہی۔

اس حکومت کے آغاز میں گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کی تعداد 65 تھی، لیکن آج 83 پاور پلانٹ گیس نیٹ ورک سے جڑے ہوئے ہیں اور صرف دو بجلی گھر "چابہار" اور کنارک" ہی باقی ہیں جو ایرنشہر سے چابہار پائپ لائن کی تکمیل کیساتھ ہی، یہ دونوں پاور پلانٹ اگلے سال کے آخر تک گیسفائٹ ہوجائیں گے۔

پچھلے شمسی سال کے سردیوں میں کچھ ناقدین کا کہنا تھا کہ پاور پلانٹ گیس کی بجائے ڈیزل استعمال کرتے ہیں تاہم؛ نیشنل گیس کمپنی کے اعداد و شمار، فروری 2022 کے پہلے 10 دنوں سے، جو سال کے سب سے سرد دن بھی تھے، سے پتہ چلتا ہے کہ اسی عرصے کے دوران میں بجلی گھروں کے ایندھن کی کھپت میں مجموعی طور پر 6.3 فیصد اضافہ ہوا تھا جس میں پچھلے سال کے مقابلے میں صرف بجلی گھروں کو گیس کی فراہمی میں 25.5 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران میں اس وقت 83 گیس سے چلنے والے بجلی گھر ہیں جن میں سے 17 تدبیر اور امید کی حکومت نے فراہم کیے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے 7 سالوں میں گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

** 9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 8 =