امریکہ کو مذاکرات کے بغیر جوہری معاہدے میں واپس جانا چاہئے: موسویان

میڈریڈ،ارنا - سابق ایرانی جوہری مذاکرات کار اور امریکی یونیورسٹی پرنسٹن کے پروفیسر نےکہا ہے کہ امریکہ کو مذاکرات کے بغیر جوہری معاہدے میں واپس جانا چاہئے۔

یہ بات سید حسین موسویان نے بیروت میں "ای پالیسی" انسٹی ٹیوٹ کے ایک ویبینار میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے مذاکرات کے بغیر برجام کو چھوڑ دیا تو اسے مذاکرات کے بغیر جوہری معاہدے میں واپس جانا چاہئے۔

موسویان نے مزید بتایا کہ مشرق وسطی صدیوں سے ایرانیوں اور عربوں کا مسکن ہے ، بدقسمتی سے ، آج یہ گھر دنیا کا ایک انتہائی نازک خطہ ہے جس کو دہشت گردی، خانہ جنگیوں، نسلی تنازعات سمیت متعدد بحرانوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں جوہری معاہدے میں امریکہ کی واپسی اور امریکہ - ایران تعلقات میں بہتری کے امکان کے بارے میں پر امید نہیں ہوں کیونکہ حکومت اور کانگریس اندرونی تنازعات کا شکار ہیں کانگریس حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے جبکہ اسرائیلی لابی نے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ بائیڈن انتہائی کمزوری کی پوزیشن میں ہے اور  اسے واپس آنے کا فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔

میری رائے میں ، خطے کے ممالک اور ایران کے مابین تعلقات کو بہتر بنانا امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے سے زیادہ اہم ہے ، اور اسی لئے خطے کے ممالک بھی ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے لئے امریکہ کا انتظار نہیں کریں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURD

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 0 =