ہمدان میں ابوعلی سینا کا مقبرہ فن اور طب کا ایک امتزاج

ہمدان، ارنا - ایرانی ماہر فلسفی ، سائنس دان اور طبیب شیخ الریئس ابوعلی سینا کا مقبرہ فن اور طب کا ایک امتزاج ہے جو ایران کی تاریخ سیاحت پر ایک زیور کی طرح چمکتا ہے۔

ابوعلی سینا کا مقبراہ صوبے ہمدان کے وسط میں اسی نام کے ساتھ واقع ہے اور اسے ایران کی قومی ثقافتی ورثے میں سے ایک کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
اس مقبرے کا تعمیراتی انداز اس صدی سے متاثر ہے جس میں ابوعلی سینا رہتا تھا اور اسے اسلامی تاریخ کی سب سے قدیم عمارت ،گنبد کاووس شہر کے گنبد قابوس ٹاور سے امتزاج کیا گیا ہے۔
مقبرہ قدیم ایران اوراسلام کے بعد کے ایران کے دو طرز تعمیرات کا مجموعہ ہے اور اس کمپلیکس کے ڈیزائن میں روایتی ایرانی فن تعمیر کا استعمال کیا گیا ہے۔
اس عظیم سائنسدان کا مقبرہ سال کے تمام موسموں میں مصنفین اور اسکالرز کا میزبان ہے جنھوں نے اس عظیم طبیب اور عظیم فلسفی کو اس کے مستحق سمجھا ہے۔
ہر سال بہت سے مسافر اور سیاح اس عقلمند شیخ کے مقبرے کے پاس کچھ وقت گزارنے کے لئے اس مقبرے کی زیارت کے لئے صوبے ہمدان تشریف لاتے ہیں۔
صوبے ہمدان میں 1800 قدرتی یادگاریں اور سیاحت موجود ہیں اور غار علی صدر ، گنج نامہ اور آـبشار کی تحریریں ، بابا طاہر اور بو علی سینا کے مقبرے اور مختلف بشریاتی میوزیم سب سے زیادہ سیاحوں کو راغب کرتے ہیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha