ایران نے عالمی عدالت انصاف کو اس کے حکم  پر امریکی خلاف ورزی کی اطلاع دی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران نے عالمی عدالت انصاف کے نام میں ایک خط میں اسے 3 اکتوبر 2018ء میں مقرر کیے گئے آسی سی سی کے عبوری حکم پر امریکہ کی عدم پابندی اور اس کی مسلسل خلاف ورزی کو اطلاع دیتے ہوئے عالمی عدالت انصاف سے اس حوالے سے مناسب رد عمل اپنانے کا مطالبہ کیا۔

ایران نے اس لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ امریکہ عالمی عدالت انصاف کے عبوری حکم کی خلاف ورزی کی ہے اور اس نے نہ صرف انسان دوستانہ مصنوعات، خوراک، ادویات، ہوابازی کے سامان کی برآمدات کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے سمیت رقوم کی منتقلی کو ممکن بنانے سے متعلق تعاون نہیں کیا ہے بلکہ اس راستے میں مزید روڑے اٹکایا ہے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اسی عرصے کے دوران اور حتی کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باوجود، ایران کیخلاف عائد پابندیوں میں مزید اضافے اور دیگر ملکوں سے معاہدے کرنے میں رکاوٹیں حائل کرنے کے ذریعے عالمی عدالت انصاف کے عبوری حکم کیخلاف ورزی کی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے اس خط میں عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ 3 فروری 2021 کو اپنے عدالتی فیصلے اور اس جائز مرحلے میں داخلے کے پیش نظر اور عدالت کے ضابطہ اخلاق کی آرٹیکل 11 کے مطابق ،عدالت کے نفاذ کی نگرانی کیلئے کیس کمیٹیاں تشکیل دینے کے امکان پر غور کرے۔

250 صفحات پر مشتمل اس خط اور اس کے ضمیمہ، جو امریکہ کی طرف سے آسی سی سی کے عبوری حکم کیخلاف ورزی کے ثبوت ظاہر کرتے ہیں، کو 18 مارچ بروز جمعرات کو دی ہیگ میں عدالت کے سکریٹری جنرل کے پاس پیش کیا گیا۔

 **9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 3 =