ایران نے بدستور افغانستان کی حمایت کی ہے: افغان سابق صدر

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے مرکز برائے سیاسی اور بین الاقوامی امور کے زیر اہتمام میں منعقدہ تہران ڈائیلاگ فورم کے دوران، چند ملکوں کے وزرائے خارجہ سمیت غیر ملکی سیاسی اور سائنسی شخصیات نے تقریریں کیں۔

منعقدہ اس فورم میں ترک وزیر خارجہ "مولود چاووش اوغلو" نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی، بدستور علاقائی تعاون اور مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطی مسائل کے حل میں موثر اور مفید سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی جوہری مسئلے کے حل کے سلسلے میں ترکی اور برزایل کی مشترکہ حکمت عملی، شام سے متعلق ایران، ترکی اور روس کی سہ فریقی اجلاس اور شامی آئینی کمیٹی کے قیام سے متعلق ان تینوں ملکوں کی مفاہمت، علاقائی تعاون کی چند مثالیں ہیں۔

 ترک وزیر خارجہ نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کو غلط اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی نئی انتظامیہ نے جوہری معاہدے میں واپسی کا وعدہ دیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ جلد از جلد ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خطے کی بہت ساری صلاحتیں ہیں جن کے استعمال کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے؛ اگر چہ اس حوالے سے فرقہ واریت اور دہشتگردی مسائل نے اسی راستے میں رکاوٹیں حائل کی ہیں۔

اوغلو نے عراق اور شام کو داعش دہشتگرد گروہ سے رونما ہونے والے مصائب کا شکار ہوا اور پ-ک-ک گروہ نے بھی ترکی سمیت علاقے کی سیکورٹی کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نےکہا کہ ہم  فلسطین، افغانستان، قفقاز، مشرقی بحیرہ روم کے مسائل کے حل میں علاقائی تعاون کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی نے افغانستان مسئلے سے متعلق کئی تجویز پیش کی ہے اور بحیرہ روم کے مسائل کے سیاسی حل کا یقین رکھا ہے۔

 اس موقع پر افغان وزیر خارجہ "محمد حنیف اتمر" نے علاقائی مسائل کے حل پر مذاکرات اور تعاون کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو گزشتہ دو دہائیوں سے اب تک دہشتگردی کا شکار ہے اور ہمیں افغانستان کو علاقے کے دہشتگرد گروہوں کے اڈے بنے اور عدم استحکام پھیلانے سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ 

انہوں نے افغان عمل عمل سے متعلق ہر کسی حکمت عملی افغان حکومت کی آئین کے فریم ورک کے اندر اور عوام کی خواست کے مطابق ہونی ہوگی۔  

دراین اثنا افغان سابق صدر نے کہا ہے کہ ایران نے بدستور افغانستان کی حمایت کی ہے اور افغان مسئلے کے حل پر بہت ساری تجاویز بھی پیش کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کو حمایتوں اور امداد کا تسلسل کی ضرورت ہے؛ دوحہ اور ماسکو میں بھی کچھ حکمت عملی پیش کی گئی ہیں اور ہمیں امید ہے کہ دوست ملکوں کی حمایت سے افغانستان میں قیام امن اور استحکام قائم ہوجائے گا۔

اس موقع پر شامی وزیر خارجہ "فیصل مقداد" نے خطے کی صورتحال انتہائی نازک اور پیچیدہ ہے اور بحیرہ روم اور خلیج فارس میں اغیار کی جنگی بحری جہاز آزاد ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور خطے عدم استحکام پھیلانے والے اقدامات کی واضح مثالیں ہیں۔

انہوں نے ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کو خطے میں عدم استحکتم پھیلانے کے سلسلے میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل دشمن ناجائز صہیونی ریاست ہے جس نے ٹرمپ کو جوہری معاہدے سے علیحدگی اور گولان پہاریوں کو صہیونی ریاست سے ضم ہونے پر اکسایا۔

شامی وزیر خارجہ نے کہا امریکہ اور یورپی یونین نے شام کیخلاف حملے کی سالگرہ کو شام کیخلاف مزید دباؤ ڈالنے کا موقع سمجھایا اور امریکہ نے شام کے شمال میں واقع کیمپوں میں بچوں اور خواتین کو یرغمال بنالیا ہے۔

انہوں نے امریکی نئی انتظامیہ کے اپنائے گئے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک امریکی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے لیکن توقع کی جاتی ہے کہ امریکہ بین الاقوامی تنظیموں اور عالمی قوانین میں واپس آکر دیگر ملکوں کے اندورنی معاملات میں مداخلت کرنے سے دستبردار ہوجائے گا۔

 **9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 8 =