ہم نے امریکہ کو اخلاقی تنہائی اور قانونی مذمت کا شکار کیا: ایرانی حکومت کے ترجمان

تہران، ارنا- ایرانی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم نے نہ صرف ایران کو سیکورٹی مسائل اور الگ ہونے کا شکار کرنے کے امریکی منصوبے کو شکست کا سامنا کیا بلکہ عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس کو اخلاقی تنہائی اور قانونی مذمت کا شکار کیا۔

ان خیالات کا اظہار "علی ربیعی" نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے حالیہ سال کے دوران، امریکی سخت پابندیوں اور کورونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کے مصائب میں اضافے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام کے مسائل کے حل اور ان کی مشکل حالات کو سدھارنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

ربیعی نے کہا کہ ہم نے خارجہ پالیسی میں گزشتہ سالوں کی طرح اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا؛ ہم نے ایران کو سیکورٹی مسائل اور الگ ہونے کا شکار کرنے کے امریکی منصوبے کو ناکام بناکراس کے سامنے مزاحمت کی اور کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے سفارتکاری کا راستہ اپنایا اور عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکہ کو اخلاقی تنہائی اور قانونی مذمت کا شکار کیا۔

ایرانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ علاقے کے تمام ممالک کو امن اور دوستی سمیت اختلافات کے حل پر دعوت دینے کی ہماری آواز کبھی بند نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے خطے کے تمام ممالک کیلئے اپنی استحکام اور فلاحی خواہش کو امریکہ اور اس کے ساتھیوں کیجانب سے ہمارے خلاف جھوٹے الزامات لگانے سے متاثر ہونے نہیں دیا۔

ربیعی نے کہا کہ پابندیوں کے باوجود پڑوسی ملکوں سے ہماری غیر ملکی تجارت کا سلسلہ جاری ہے اور ہمارا ارادہ ہے کہ ہم  ہمسایہ ملکوں کے علاوہ خطے کے دیگر ملکوں سے اپنی تجارتی لین دین کا فروغ دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ آئندہ مہینوں میں امریکہ کے پاس ایران کیخلاف ظلم کے خاتمہ اور عالمی امن کا رویہ اپنانے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے اور اب جوہری معاہدے کی بُری صورتحال ختم ہونے کے قریب ہے اور ایران اور دنیا کیساتھ تعلقات کا ایک نیا باب آغاز ہوجائے گا۔

ربیعی نے کہا کہ ان سب کامیابیوں کا بیرونی سازشوں کیخلاف مقابلہ کرنے اور اندرونی توہین کے سامنے صبر و مزاحمت کا اظہار کرنے کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا؛ ہم نے دنیا سے تعمیری اسٹریٹجک رویہ اپنایا اور کامیابی کے تحفظ کیلئے اسی راستے پر گامزن ہوں گے۔

 **9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha