15 مارچ، 2021 7:14 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 84265216
0 Persons
کورونا اور پابندیوں کی سردی ختم ہونے کے قریب ہے: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس، عدم انصاف اور پابندیوں کی سردی ختم ہونے کے قریب ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمگیریت سے مراد یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہیں اور نوروز ہمیں فطرت کیساتھ رہنا سیکھاتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے آج بروز پیر کو "نوروز 1400 ش؛ دوستی کا نوروز" کی نشست کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوروز دلوں کو ناراضگی، نفرت وغیرہ سے خالی کرنے کا جشن ہے؛ آج ، نہ صرف برصغیر سے ترکی، عراق اور شام تک  نوروز تہوار منایا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر کے وہ مقامات جن میں حافظ اور رومی کو جانتے ہیں، میں بھی نوروز تہوار کو منایا جاتا ہے۔

ظریف نے کہا کہ کورونا وائرس، عدم انصاف اور پابندیوں کی سردی ختم ہونے کے قریب ہے؛ آج ماہرین اور سائنسدانوں کی کوششوں اور ہمت سے کورونا وائرس پر قابو پاسکیں گے اور جو اہم بات جس کو ہمیں جانا ہوگا یہ ہے کہ دنیا کے صرف اور صرف طاقت اللہ رب العزت ہیں؛ دنیا میں اس کے بغیر کوئی طاقت نہیں ہے اور وہ جن کی فوجی، اقتصادی اور ثقافتی طاقت عروج پر ہے انہوں نے بھی اس چھوٹی سی وائرس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشیاں بانٹنا ہوگا اور ایک دوسرے کی خوشی و غم میں شریک ہونا ہوگا اور ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ ترقی کو پسماندگی سے فلاح کو غربت سے سلامتی کو عدم تحفظ سے اور امن کو جنگ کیساتھ نہیں مل سکتا۔

ظریف نے کہا کہ انسانی اقدار آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور عالمگیریت کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور نوروز ہی ہے جو ہمیں فطرت کیساتھ رہنا سیکھاتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ نیا سال اور بہار کے آغاز کو ہر سال نئے سال کی طرح منائیں اور خدا سے دعا کریں کہ وہ ہمارے دلوں اور دنوں کی تجدید کرے اور ہمارے دلوں میں ناراضگی دور کرے کیونکہ وہ موسم سرما کو موسم بہار میں بدل دیتا ہے اور ہم سے خود غرضی کو دور کرتا ہے اور ہمیں سیکھاتا ہے کہ ہم سب ایک ہی کشتی میں بیٹھے ہیں اور انسانیت کا مستقبل، مشترکہ مستقبل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے عدم تحفظ سے محفوظ نہیں رہ سکتے اور دوسروں کے غم سے خوش نہیں رہ سکتے ہیں؛ ہمیں پندرہویں صدی کے آغاز میں ہی ان بوسیدہ سوچوں کو بالائے طاق رکھنا ہوگا۔

ظریف نے کہا کہ اگرچہ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اگلا سال نئی صدی کا آغاز نہیں ہے، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ جب ہم 1399 ش کو 1400ش میں بدل دیتے ہیں تو ہم ایک صدی سے گزرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جنگ، پابندی، عدم انصاف، غم اور ویکسین کی صدی سے گزرکر محبت، دوستی، یکجہتی اور تعاون کی نئی صدی میں داخل ہوجاتے ہیں۔

 **9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha