نوروز خطے کی بہت سی قوموں کی ثقافت اور رواج کی جڑ ہے: ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جسے ہم نوروز کی ثقافت کے نام سے جانتے ہیں وہ بہت ساری قوموں کی ثقافت اور رواج کی جڑ ہے جو وادی سندھ سے لے کر مغربی ایشیاء اور قفقاز تک پائی جاتی ہیں اور یہ تنوع آج ہم تک پہنچ گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سعید خطیب زادہ" نے آج بروز پیر کو "نوروز 1400ش؛ دوستی کا نوروز" کی نشست کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 100 سال پہلے، نوروز 1300 ہجری کو اسی چوک میں جسے اُس وقت "نقش" اسکوائر کہا جاتا تھا اور آج اسے اقوام متحدہ کی اسٹریٹ کہا جاتا ہے، نئی شمسی صدی میں داخل ہونے کا جشن منایا گیا۔

خطیب زادہ نے منعقدہ تقریب میں محکمہ برائے ثقافتی ورثے، دستکاری مصنوعات اور سیاحتی صنعت کے امور، یونیسکو کی قومی تنظیم، محکمہ توانائی، ایکو تنظیم اور تہرات میونسپلٹی کے عہدیداروں کی شرکت سے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوروز چھوٹی اور بڑی دنیا کی تجدید کا مظہر ہے؛ سب کچھ نئی بن جاتی ہے اور اگرچہ یہ تجدید فلسفوں کے مطابق پائیدار ہے لیکن نوروز تہوار جیسا کچھ بھی اس تجدید کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جسے ہم نوروز کی ثقافت کے نام سے جانتے ہیں وہ بہت ساری قوموں کی ثقافت اور رواج کی جڑ ہے جو وادی سندھ سے لے کر مغربی ایشیاء اور قفقاز تک پائی جاتی ہیں اور یہ تنوع آج ہم تک پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوروز تبدیلی اور تجدید اور انسان کو نیکی اور بھلائی میں بدلنے سے منسلک ہے۔

 خطیب زادہ نے کہا کہ ہم اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بقائے باہمی اور دوستی کے سلسلے ہماری سوچ اور حکمت عملی کو تبدیل کرے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کرلیا کہ موسم بہار کی آمد سے کورونا وبا پر قابو پائیں گے؛ انہوں نے ایرانی قوم اور علاقے کی ساری قوموں کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرلیا۔

 **9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 6 =