عالمی جوہری ادارے کو بغیر جانبداری اور تکنیکی فریم ورک کے اندر اظہار رائے کرنا ہوگا: ایران

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ایران نے سیف گارڈز کے فریم ورک کے اندر آئی اے ای اے کو ضروری رسائی کی فراہمی کی ہے لہذا ایران سے باہمی تعلقات کے تحفظ کیلئے عالمی جوہری ادارے کو بغیر جانبداری اور تکنیکی فریم ورک کے اندر اظہار رائے کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار "سعید خطیب زادہ" نے آج بروز پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے خاتون ایرانی شاعر "پروین اعتصامی" کی یاد منانے اور تیل کی صنعت کی قومی دن پر تبصرہ کرتے ہوئے حالیہ ہفتے کے دوران، خارجہ سیاست کی تبدیلیوں کی وضاحت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ پیر کے دوران، ایران اور ازبکستان کے سیاسی مذاکرات کے چٹھے دور کا انعقاد کیا گیا؛ اس کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ نے گزشتہ منگل کے دوران غیر ملکی تجارت میں سرگرم فعال کمپنیوں کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔

اس کے علاوہ محمدجواد ظریف نے جاپان اور فین لینڈ کے وزرائے خارجہ سمیت پاکستانی وزیر اعظم کے خصوصی نمائندہ برائے اافغانستان کے امور سے ملاقات اور گفتگو کی۔

خطیب زادہ نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز کے دوران، کھیل کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور کل بروز منگل کو بھی دوسرا "تہران ڈائیلاگ فورم" کا ورچوئل انعقاد ہوگا۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کےاگلے اجلاس کی حتمی تاریخ ابھی مقرر نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کی اہمیت کو کم کرنے کے سلسلے میں اسرائیل- سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ریلوے کوریڈور کے ممکنہ نفاذ سے متعلق کہا کہ ناجائز صہیونی ریاست اگر چہ ہر کسی موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے لیکن وہ ایک ناجائز ریاست ہے؛ ایران تبدیلیوں کا جائزہ لے کر اس حوالے سے مناسب موقف اپنائے گا۔

انہوں نے ماسکو میں افغانستان سے متعلق ایران کی شرکت اور پاکستانی نمائندے برائے افغانستان کے امور کی موجودگی سے کہا کہ ہم نے افغان مسئلے سے متعلق متعدد ممالک سے مذاکرات کیے ہیں اور یہ افغان حکومت کے فریم ورک کے اندر ہوئے ہیں اور ہم ماسکو کی نشست میں حصہ لینے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

خطیب زادہ نے عالمی جوہری سربراہ کے حالیہ بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کا معاملہ ایک تکنیکی معاملہ ہے اور ایران نے سیف گارڈز کے فریم ورک کے اندر آئی اے ای اے کو ضروری رسائی کی فراہمی کی ہے لہذا ایران سے باہمی تعلقات کے تحفظ کیلئے عالمی جوہری ادارے کو بغیر جانبداری اور تکنیکی فریم ورک کے اندر اظہار رائے کرنا ہوگا۔

انہوں نے بغیر ایران کی موجودگی سے دوحہ اجلاس کے انعقاد سے متعلق کہا کہ شام سے متعلق ایران کی پالیسی واضح ہے اور ہم شام میں قیام امن اور شامی عوام کے مصائب کو کم کرنے کیلئے ہر کسی تعمیری حکمت عملی کا خیر مقدم کریں گے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ آستانہ امن عمل شامی بحران کو حل کرنے کا کامیاب ترین عمل ہے اور روسی وزیر خارجہ نے بھی کہا کہ شامی عوام کے دکھ درد کو کم کرنے کی ہر کسی حکمت عملی کی حمایت لازمی ہے۔

انہوں نے ایران کنٹینر جہاز کیخلاف حالیہ تخریب کاری حملے میں ناجائز صہیونی ریاست کے ملوث ہونے کے سوال کے جواب میں کہا کہ اس حوالے سے مسلح افواج کے سربراہ کو اظہار رائے کرنا ہوگا لیکن اس حملے کے جغرافیای محل وقوع کے مطابق اس میں صہیونی ریاست ملوث ہونے کا امکان ہے۔

ایرانی محکمہ خارجہ نے کہا کہ صہیونی ریاست علاقے میں عدم استحکام پھیلانے کیلئے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کرے گی اور اپنی حیات کے تسلسل کو جنگ اور بحران میں دیکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے میں ملوث ہونے والوں کی نشاندہی سے اپنے حقوق کے دفاع کیلئے مناسب رد عمل کریں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha