ایران- شہرکرد کنٹینر جہاز کیخلاف حالیہ حملہ بین الاقوامی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے

تہران، ارنا- بحیرہ روم میں "ایران- شہرکرد" کنٹینر جہاز کیخلاف حالیہ تخریب کاری حملہ بین الاقوامی حقوق اور آزادانہ جہازرانی کے اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اسے "بحری قزاقی" کی واضح مثال قرار دیا جاسکتا ہے لہذا؛ ساری حکومتوں کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق اس اقدام کیخلاف مناسب رد عمل کرنا ہوگا۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان "سعید خطیب زادہ" نے بحیرہ روم کی بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی کنٹینر جہاز کیخلاف حالیہ تخریب کاری حملے سے متعلق کہا کہ موصولہ رپورٹ نے اس جہاز کیخلاف تخریب کاری حملے کو بین الاقوامی اور بحری قوانین کی خلاف ورزی کی تصدیق کی ہے۔

بحری قزاقی کیخلاف مقابلہ سارے ممالک کی ذمہ داری ہے؛ لیکن جمہوریہ اسلامی ایران اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے اپنی ساری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے واضح طور پر اقوام متحدہ کو کہا ہے کہ وہ عدن کی خلیج اور صومالیہ سواحل میں بحری قزاقوں کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے پختہ عزم رکھتا ہے۔

لہذا دنیا کے دیگر ممالک سے توقع کی جاتی ہے کہ جہاز کے زیر پرچم ملک کے جغرافیائی محل وقوع سے قطع نظر اس واقعے کا مقابلہ کرنے میں تعاون کریں۔

صیہونی ریاست پر ایران- شہرکرد جہاز کیخلاف حملے میں ملوث ہونے کا شبہ ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے قزاقوں کے جرگے میں شامل ہوا ہے۔

تقریبا ایک دہائی قبل ناجائز صہیونی ریاست نے بحیرہ روم کے بین الاقوامی پانیوں میں فریڈم فلوٹیلا (غزہ میں بین الاقوامی کارکنوں اور انسانیت سوز امداد لے جانے والے) پر حملہ کیا تھا اور اپنے جنگی جرائم اور انسانیت کیخلاف جرائم کی ایک موٹی کتاب میں ایک اور صفحے کا اضافہ کرتے ہوئے بحری قزاقوں کی صفوں میں شامل ہوگئے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha