ایران نے عراق کے حالیہ حملوں میں ملوث ہونے کے الزام کا مسترد کردیا

نیویارک، ارنا- اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے عراق میں قائم امریکی فوجی بیسوں کیخلاف حالیہ حملے میں ایران کی ہر کسی مداخلت کے الزام کا مسترد کرتے ہوئے؛ عراقی فورسز کیخلاف امریکی ہوائی حملوں کو بین الاقوامی حقوق کیخلاف ورزی قرار دے دیا۔

"مجید تخت روانچی" نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل "انٹونیو گوٹرش" کے نام میں ایک خط میں امریکی مشن کیجانب سے عراق میں امریکی بیسوں میں حملے کی ایرانی حمایت کے دعوی کا ذکر کرتے ہوئے ان حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کی تردید کی۔

تخت روانچی نے کہا کہ اقوام متحدہ میں تعینات امریکی مستقل مندوب نے ایران کیخلاف عراق میں "غیر سرکاری عسکریت پسند گروپ" کی حمایت کا الزام لگانے کی کوشش کی ہے جس کی ایران تردید کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں تعینات ایرانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے بالواسطہ اور بلاواسطہ، عراق میں امریکی فوجی بیسوں کیخلاف ہر کسی فرد اور تنظیم کے حملے میں مداخلت نہیں کی ہے؛ اور ہم عراق میں امریکی فورسز کیخلاف حالیہ حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے ہر کسی دعوے کا مسترد کرتے ہیں جو بالکل بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے۔

تخت روانچی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، 25 فروری 2021 میں شام اور عراق کی سرحد میں عرقی فورسز کیخلاف امریکی فوجی حملے کی مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے خطرناک اقدامات جو غلطی سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کی خود ساختہ تشریح کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، علاقائی ممالک کی قومی سالمیت اور خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے اوراقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی حقوق کیخلاف ہیں۔

اقوام متحدہ میں تعینات ایرانی مندوب نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ کرے گا اور صرف اور صرف دہشتگرد گروہوں کے مفاد کی فراہمی کرے گا جن کا روکا جانا ہوگا۔

انہوں نے اس خط کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دستاویز کے طور پر اندراج کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha