اگر ہم سفارتکاری کی تلاش میں ہیں تو واضح راستہ امریکی پابندیوں کی منسوخی اور وعدوں پر عمل درآمد ہے: صدر روحانی

تہران، ارنا- ایرانی صدر مملکت نے امریکہ کو جوہری معاہدے اور اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2231 کیخلاف ورزی کرنے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم سفارت کاری کی تلاش میں ہیں تو، واضح راستہ امریکی پانبدیوں کی منسوخی اور اس کیجانب سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد ہے اور اس کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے بدھ کے روز برطانوی وزیر اعظم "بوریس جانسون" سے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں بین الاقوامی تعاون کو نقصان پہنچا ہے اور بدقسمتی سے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل اس عرصے کے دوران، مناسب اور غیرجانبدارانہ طور پر کام نہیں کر سکی ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ اس کمی کو دور کرنے کیلئے مل کر کام کریں۔

صدر روحانی نے جوہری معاہدے سے متعلق ایران کے حتمی موقف کو عمل کے سامنے عمل قرار دے دیا اور کہا کہ یورپی فریقین کیجانب سے اپنے جوہری وعدوں پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں عوام کے درمیان عدم اعتماد بڑھ کر سفارتکاری کیلئے جگہ تنگ ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت کا دعوی ہے کہ اسے جوہری معاہدے کی واپسی اور اس پر عمل درآمد میں دلچسپی ہے جبکہ اس نے ابھی تک اس سلسلے میں عملی طور پر کوئی اقدام نہیں کیا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ واشنگٹن مذاکرات کے ذریعے اس معاہدے سے علیحدہ نہیں ہوگیا تو اب کیوں مذکرات سے اس میں از سر نو شامل ہونے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز میں ایران کے خلاف قرار داد واپس لینے میں برطانیہ اور دو دیگر یورپی ممالک نے صحیح فیصلہ کیا کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے راستہ مزید پیچیدہ اور دشوار ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ صرف ہی ایران کو جوہری معاہدے کے تحفظ کیلئے اقدامات نہیں اٹھانے ہوں گے؛ ایران نے اب تک جو بھی اقدامات کیے ہیں وہ جوہری معاہدے کے فریم ورک کے اندر اور اس میں توازن بحال کرنے اور معاہدے کو برقرار رکھنے کے مقصد کیساتھ انجام پائے ہیں۔

ایرانی صدر نے کورونا وبا کے دوران، امریکہ کیجانب سے دیگر ملکوں میں ایران کی اپنے مالی وسائل تک رسائی میں روڑے اٹکانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ بحران کے ساتھ مہذب محاذ آرائی کیلئ تیار نہیں ہے اور وہ تحفظ پسند اور امتیازی رجحانات کا پیچھا کررہا ہے، اور یہ بلاشبہ عالمی برادری کی اخلاقی ناکامی ہے۔

ڈاکٹر روحانی نے دفاعی خریداریوں کے سلسلے میں کئی سالوں سے برطانیہ پر ایران کے قرضے کے معاملے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایران کے مقروض بیشتر ممالک بلاک شدہ فنڈز جاری کر رہے ہیں یا اپنے قرضوں کی ادائیگی کررہے ہیں، یہ بہت حیرت کی بات ہے کہ ایران کے چالیس سالہ دفاعی مطالبات کی وطن واپسی کے عمل میں ابھی عملی طور پر پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔

انہوں نے علاقائی تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ ہی خطے میں امن و استحکام کا مطالبہ کیا ہے اور کچھ افواہوں کے برعکس، دوسروں پر کوئی حملہ نہیں کیا ہے اور وہ خطے کے تمام بحرانوں کے حل میں کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم عراق کے معاملات میں بیرونی مداخلت کے مخالف ہیں اور اسے عراق سمیت علاقئے کے مفادات کے مخالف سمجھتے ہیں اور عراق کے حالیہ واقعات میں ایران کو ملوث سمجھنا کوئی تعمیری موقف نہیں ہے اور امریکہ کو علاقے میں اپنی غلطیوں کا تسلیم کرنا ہوگا۔

صدر روحانی نے یمن میں انسانی تباہی کے تسلسل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے یمنی جنگ کے ابتدا ہی سے کہا تھا کہ اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس حوالے سے چار نکاتی منصوبے کی تجویز دی تھی؛ اسلامی جمہوریہ ایران یمن میں قیام امن کیلئے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کرے گا۔

در این اثنا برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ سارے فریقین جوہری معاہدے کے تحفظ کے خواہاں ہیں اور ہم تمام اراکین کیجانب سے اپنے جوہری وعدوں پر پوری طرح عمل کرنے کے حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے ایران کے قرضوں کو جلد از جلد ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے علاقے میں قیام امن اور استحکام سے متعلق ایران کے تعمیری کردار کو سراہا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 5 =