پابندیوں پر آنکھیں بند کرنے والے رپورٹر ایرانی عوام کیخلاف جرم میں برابر کے شریک ہیں

تہران، ارنا- ایرانی کونسل برائے انسانی حقوق کے سیکرٹری نے اقوام متحدہ کے نام میں ایک خط میں اس تنظیم کے خصوصی رپورٹر کیجانب سے سیاست کا شکار رپورٹ کی اشاعت کے رد عمل میں کہا کہ پابندیوں پر آنکھیں بند کرنے والے رپورٹر ایرانی عوام کیخلاف جرم میں برابر کے شریک ہیں۔

"علی باقری کنی" نے ایران کیخلاف اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی رپورٹ کے رد عمل میں ایک خط میں اقوام متحدہ کے سربراہ اور انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے  قانونی شواہد اور وجوہات کی بنا پر رپورٹ میں موجود سنگین خامیوں، کوتاہیوں، تضادات اور جھوٹے الزامات کو نوٹ کیا اور اس کے سیاسی نوعیت کے نقطہ نظر کی تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ قانون اور سیاست کی مہم میں، یہ ہمیشہ یہ قانون ہیں جو سامراجی طاقتوں کے سیاسی مفادات کے لئے قربان کیے جاتے ہیں اور ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر خصوصی نمائندہ کے مینڈیٹ کے انتخاب اور توسیع کا طریقہ کار ایرانی عوام کے حقوق کی قربانی دینے کی ایک واضح مثال ہے؛ جو چند حکومتوں کے سیاسی مفادات کی فراہمی کیلئے ہے جہنوں نے طویل عرصے سے ایرانی عوام کے دشمنوں کی پشت پناہی کی ہے۔

باقری کنی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ کی رپورٹ میں امریکی حکومت کی طرف سے ظالمانہ، غیر قانونی اور مجرمانہ پابندیوں کے نفاذ کے نتیجے میں ادویات اور طبی آلات تک رسائی میں دشواری کے سبب دسیوں بے گناہ بچے اور سیکڑوں بے گناہ مریضوں کی موت کا کوئی سراغ نہیں ملتا ہے جس کا مطلب ہزاروں ایرانی شہری کے "زندگی کا حق" اور "صحت کا حق" کی واضح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عجیب بات یہ ہے کہ اس رپورٹ کا ایک پیراگراف ایران کے ایک قیدی کی صورتحال سے متعلق ، لیکن اس رپورٹ جو مبینہ طور پر "انسانی حقوق" سے متعلق ہے، میں انسانی جانوں اور بے گناہ لوگوں کی کوئی قدر نہیں ہے۔

باقری کنی نے کہا کہ حالیہ رپورٹ میں کہیں بھی امریکی حکومت کے جابرانہ اور ظالمانہ اقدامات اور ان کے تباہ کن، نقصان دہ اور جان لیوا اثرات کے ساتھ ساتھ "غیر معمولی پابندیاں" لگانے کی بین الاقوامی ذمہ داری کا بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے؛ جس سے اقوام متحدہ کے رپورٹر کے سیاسی عزائم ظاہر ہوتے ہیں۔

انہوں نے ایران میں خواتین کی صورتحال سے متعلق اقوام متحدہ کے رپورٹر کی غیر حقیقی بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے مطابق، "صنفی انصاف" کا نظریہ "صنفی مساوات" سے بالاتر ہے کیونکہ اس سے خواتین کے حق میں "قانونی استحقاق اور امتیازی سلوک" کا امکان ملتا ہے۔

باقری کنی نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ ایرانی خواتین کی پیشرفت اور اسلامی جمہوریہ کے انسانی حقوق کی کامیابییں بہت بڑی ہیں؛ اس کی واضح مثال ملازمت میں اضافہ اور ملک کی معیشت میں 40 فیصد سے زیادہ خواتین کی شرکت اور سینئر انتظامی عہدوں پر بشمول نائب صدر ، اسلامی مشاورتی اسمبلی کی ممبر، سفیر، جج، گورنر، میئر پر ان کی تقرری ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha