نئی امریکی انتظامیہ غیر مشروط طور پر جوہری معاہدے میں واپس آئے: ایرانی ترجمان

تہران، ارنا – ایرانی حکومت کے ترجمان نے کہاہے کہ ہم نئی امریکی انتظامیہ کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ غیر مشروط طور پر جوہری معاہدے میں واپس آئے اور سفارتکاری کے لئے راستے کو مزید مشکل نہ بنائے۔

یہ بات علی ربیعی نے آج بروز منگل ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ، ایران کے خارجہ تعلقات ہماری سیاسی تاریخ کا ایک اہم ترین دور سے گذر چکے ہیں اور جوہری معاہدے کا مسئلہ صدر اور ان کے بعض ہم منصوبوں کے مابین بات چیت کا اہم موضوع تھا۔

انہوں نے کہا کہ بلاشبہ جوہری معاہدہ حالیہ دہائیوں میں سب سے بڑا سیاسی واقعہ اور ایک قومی کارنامہ ہے اگرچہ جوہری معاہدے سے ایک پاگل کی علیحدگی کی وجہ سے ہم بہت مسائل کا سامنا ہوگئیں لیکن یہ مشکل جلد ہی ختم ہوجائے گا اور امریکی حکومت اپنے چھوڑے گئے صحیح راستے پر واپس آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ آج بہت سارے ممالک اس معاہدے کو بحال کرنے کے لئے نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ مستقبل قریب میں یہ ہدف حاصل کرلیا جائے گا کیونکہ وہ عالمی امن کو یقینی بنانے اور تمام ممالک کے مفادات کی ضمانت دینے کا واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بہت سارے ممالک اس معاہدے کو بحال کرنے کے لئے نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ مستقبل قریب میں یہ ہدف حاصل کرلیا جائے گا کیونکہ وہ عالمی امن کو یقینی بنانے اور تمام ممالک کے مفادات کی ضمانت دینے کا واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدہ ایک بین الاقوامی قانون ہے اور امریکہ کے پاس اس قانون کی پاسداری کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اور ہم وائٹ ہاؤس سے دوبارہ مطالبہ کرتے کہ جیسا کہ سابق لاپرواہ سابق امریکی صدر جوہری معاہدے سے ایک طرفہ علیحدہ ہوگیا غیر مشروط طور پرجوہری معاہدے میں دوبارہ واپس آئیں اور سفارت کاری کی راہ  کو مزید مشکل نہ بنائیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURD

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 2 =