جابرانہ پابندیوں کا نفاذ بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے: ایران کے اٹارتی جنرل

تہران، ارنا- ایران کے اٹارتی جنرل نے ملک کیخلاف جابرانہ پابندیوں کے نفاذ کو بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف وزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان جیسے اقدامات نے بین الاقوامی تعاون اور آزاد ممالک خاص طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کی قوم کی ترقی راہ میں رکاوٹیں حائل کی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار علامہ "محمد جعفر منتظری" نے آج بروز پیر کو جاپان کی میزبانی میں جرائم کی روک تھام سے متعلق منعقدہ ایک ورچوئل اجلاس کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ سالوں کے دوران، قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کیلئے خاص طور پر جرائم کی روک تھام کیلئے مربوط قانونی فریم ورک کے اندر اپنی کوششوں کو بڑھایا ہے۔

منتظری کہا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے جرائم کیخلاف مقابلہ کرنے کو تقویت دینے اور ایک ہی وقت میں جرائم سے نمٹنے کے مختلف شعبوں میں انصاف کے بنیادی اصولوں پر خاطر خواہ توجہ دینے کیساتھ ، ضروری قوانین اور قواعد و ضوابط کی منظوری دے کر ان کو اپ ڈیٹ بھی کیا ہے اور قانونی امور کے شعبے میں موثر بین الاقوامی اقدمات اٹھائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے منشیات اور انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام، تشدد اور انتہاپسندی کیخلاف مقابلہ اور دہشتگرد گروہوں کی تباہی پر انتہائی قابل قدر کوششیں کی ہیں۔

انہوں نے ایران کیخلاف جابرانہ پابندیوں کے نفاذ کو بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف وزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان جیسے اقدامات نے بین الاقوامی تعاون اور آزاد ممالک خاص طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کی قوم کی ترقی راہ میں رکاوٹیں حائل کی ہیں۔

منتظری نے کہا کہ ہم سب کو بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی کی بنیادوں کو خراب کرنے والے یکطرفہ زبردستی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha