امریکہ پابندیوں کے بجائے منطق پر مبنی پالیسی اپنائے: نائب ایرانی صدر

یزد، ارنا- سنئیر نائب ایرانی صدر نے کہا ہے کہ امریکہ کو اس حقیقت کا تسلیم کرنا ہوگا کہ ایران کیخلاف پابندیاں لگانے کی پالیسی کو شکست کا سامنا ہوا ہے اور اب اسے عقل اور منطق پر مبنی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار "اسحاق جہانگیری" نے آج بروز ہفتے کو صوبے یزد کے اشرفیہ اور سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی سرگرم کارکنوں سے ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کو تباہ کرنے اور اسے واشنکٹن کے سامنے ہتیھار ڈالنے پر مجبور کرنے کیلئے ایرانی قوم کیخلاف سخت سے سخت پابندیاں عائد کیں؛ دنیا کے بہت کم ممالک ان جیسی پابندیوں کے سامنے مزاحمت کر سکتے ہیں۔

جہانگیری نے کہا کہ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ ایران کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے ذریعے ایران کو مذاکرات کرنے پر مجبور کریں تا ہم ایرانی قوم نے مشکلات اور مصائب کو برداشت کرنے اور ان کے سامنے مزاحمت کرنے سے یہ ظاہر کر دیا کہ وہ کبھی ان کے ظلم سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔

سنئیر نائب ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کیخلاف ظالمانہ پابندیاں ختم ہونے کے قریب ہیں اور اگرچہ ایرانی قوم، اسی عرصے کے دوران بہت سارے مصائب کا شکار ہوئے لیکن وہ اتحاد اور یکجہتی سے اسی آزمائش سے سرخرو ہوکر نکل گئے۔

انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے دوران ہم نے بہت سارے شعبوں میں خود کفیل ہوگئے اور حتی کہ ایران نے ائل مصنوعات کے بجائے زیادہ تر نان آئل مصنوعات کی تجارت کو فروغ دیا جو انتہائی قابل قدر ترقی ہے۔

جہانگیری نے کہا کہ امریکیوں کو معلوم تھا کہ سردار سلیمانی کا قتل کوئی آسان کام نہیں تھا، لہذا وہ جنرل سلیمانی کے قتل کے بعد جامع محاذ آرائی کے لئے تیار تھے، لیکن ایران نے ملک کی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس سلسلے میں دشمن کو مناسب جواب دیا۔

نائب ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ قوم کے درمیان اتحاد اور یکجہتی سے ملک کے اندرونی اور بیرونی مسائل اور مشکلات پر قابو پاسکیں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha