عراق میں قیام امن اور سلامتی ایران کی ترجیحات میں سرفہرست ہے: صدر روحانی

تہران، ارنا- ایرانی صدر مملکت نے عراق میں قیام امن اور سلامتی پر خصوصی توجہ دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم عراق میں ہر کسی بیرونی مداخلت کے مخالف ہیں اور اسے عراق سمیت علاقائی مفاد کے منافی سمجھتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے آج  بروز ہقتے کو عراقی وزیر اعظم "المصطفی الکاظمی" سے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موق پر انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی بڑی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی تعلقات کے ساتھ معاشی تعلقات کی سطح کو بہتر بنانے کی بہت اہمیت ہے اور اسی سلسلے میں تاجروں اور نجی سرمایہ کاری کمپنیوں کیلئے کاروباری ویزوں کے اجراء میں آسانی لانے سے ان تعلقات کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایرانی صدر مملکت نے عراق میں قیام امن اور سلامتی پر خصوصی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم عراق میں ہر کسی بیرونی مداخلت کے مخالف ہیں اور اسے عرق سمیت علاقائی مفاد کے منافی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے عراقی بینکوں میں کربوں ڈالر ایرانی رقوم کو غیر قانونی طور پر منجمد کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے ان رقوم کی جلد رہائی کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر روحانی نے علاقے بشمول عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کو خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے بدستور علاقے میں تباہ کن کردار ادا کیا ہے اور عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق عراقی پارلیمنٹ میں منظور کیے گیئے بل کا نفاذ خطے میں قیام امن اور استحکام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ایرانی صدر نے خطی مسائل کو خطی ممالک کے تعاون کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس حوالے سے تمام علاقائی ملکوں سے تعاون پر تیار ہے۔

انہوں نے تہران اور بغداد کے درمیان شلمچہ- بصرہ ریلوے لائن منصوبے سمیت توانائی، سرحدی اور ٹرانزیٹ کے شعبوں میں طے پانے والے معاہدوں کے جلد از جلد نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر مصطفی الکاظمی نے تمام شعبوں میں تلعقات کے فروع پر زور دیتے ہوئے شلمچہ- بصرہ ریلوے لائن کے منصوبے کے آغاز کو تہران- بغداد تجارتی تعلقات کی راہ میں ایک اہم قدم قرار دے  دیا۔

انہوں نے عراق میں قیام امن سے متعلق ایرانی حمایتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایران کیخلاف امریکی پابندیوں کو غیر قانونی اور ظالمانہ قرار دے دیا۔

عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سامان کی نقل و حمل کے عمل کو آسان بنانے کے لئے ایک خصوصی کمیٹی کا قیام ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 9 =