جوہری معاہدہ آگے بڑھانے کا واحد راستہ امریکی غیرقانونی پابندیوں کی منسوخی ہے

تہران، ارنا- نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے جوہری معاہدہ آگے بڑھانے کے واحد راستے کو ایران کیخلاف امریکی غیرقانونی پابندیوں کی منسوخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ باقی فریقین سے توقعی کی جاتی ہے کہ وہ سفارتی طریقہ کار اپناتے ہوئے کسی بھی غیرتعمیری اقدام اٹھانے سے باز رہیں۔

تفصیلات کے مطابق، ایران اور یونان کے سیاسی مذاکرات کے نئے دور کا آج بروز بدھ کو نائب ایرانی  وزیر خارجہ برائے سیاسی امور اور یونان کی وزارت خارجہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان آنلائن انعقاد کیا گیا۔

اس اجلاس میں "سید عباس عراقچی" اور "ثمیستوکلیس دمیریس" نے باہمی دلچسبی امور سمیت ایران جوہری معاہدے کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر نائب ایرانی وزیر خارجہ نے سفارتی کامیابی کے طور پر ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس معاہدے میں بغیر پیشگی شرط کے امریکی واپسی اور ایران کیخلاف پابندیوں کی منسوخی کو ایران کیجانب سے اپنے وعدوں پر پوری طرح عمل کرنے کا شرط قرار دے دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران، جوہری معاہدے کے اصولوں کے مطابق اور امریکی بدعہدی کے رد عمل میں اپنے جوہری وعدوں میں کمی لائی۔

عراقچی نے فرانس، برطانیہ اور جرمنی کیجانب سے جوہری معاہدے پر قائم رہنے کے وعدے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران، ایران کی صبر و مزاحمت نے جوہری معاہدے کے تحفظ کی سبب بنی ہے۔

انہوں نے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنز میں ایران کیخلاف کسی بھی قرارداد کی منظوری کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی شکست کے بعد ہم ان جیسے اقدامات کے سامنے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے جوہری معاہدہ آگے بڑھانے کے واحد راستہ کو ایران کیخلاف امریکی غیرقانونی پابندیوں کی منسوخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ باقی فریقین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سفارتی طریقہ کار اپناتے ہوئے کسی بھی غیرتعمیری اقدام اٹھانے سے باز رہیں۔

انہوں نے ایران اور یونان کے درمیان تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے باہمی تعاون کی توسیع پر تیاری کا اظہار کرلیا۔

اس موقع پر یونانی وزارت خارجہ کے سیکرٹری نے کہا کہ ہم جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے مخالف تھے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ جوہری معاہدے کے تحفظ کیلئے سفارتی طریقے کار اپنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ایران سے مختلف شعبوں میں تعلقات کے فروغ میں دلچسبی کا اظہار کرلیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 6 =