امریکہ کو الزام تراشی کے بجائے یمن میں اپنے 6 سالہ جرائم پر جوابندہ ہونا ہوگا: ایران

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ، یمن میں اپنے 6 سالہ جرائم پر جوابندہ ہونے کے بجائے دوسروں پر بے بنیاد الزامات نہیں لگاسکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سعید خطیب زادہ" نے آج بروز بدھ کو امریکی وزیر خارجہ کیجانب سے یمن میں کشیدگی میں اضافے سے متعلق ایران کیخلاف الزام لگانے کے رد عمل میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ، یمن میں اپنے 6 سالہ جرائم پر جوابندہ ہونے کے بجائے دوسروں پر بے بنیاد الزامات نہیں لگا سکتا ہے۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یمن کیخلاف جارحیت کرنے والوں اور یمنی عوام کے دشمنوں نے 6 سالوں کے دوران، نہتے یمنی عوام پر ہر کسی قسم کا ظلم کیا اور یمن کے بنیادی ڈھانچوں کو تباہ کردیا اور سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت سے خون کا تجارت کیا ہے؛ اب جب وہ جان چکے ہیں کہ یمنی قوم کیخلاف ان کی غیر انسانی فوجی حکمت عملی ناکام ہوچکی ہے تو وہ ان جرائم کی ذمہ داری کو دوسروں پر عائد کرنے اور عوام رائے کو کسی اور بات کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؛ حالانکہ یمنی عوام اور دنیا کی تاریخی یادداشت کبھی بھی ان کے جرائم کو نہیں بھولے گی۔

 خطیب زادہ نے کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ یمن میں جنگ ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن ہم نے سعودی اتحاد کی جارحیت کو روکنے کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں دیکھا ہے اور وہ، سابق حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یمن میں حقائق کو نظر انداز کرکے دوسروں پر بے بنیاد الزام لگانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یمن میں قیام امن سے متعلق ان کے بیانات سیاسی ہتھکنڈے کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یمنی جنگ کے ابتدا ہی سے ہمارا موقف واضح تھا اور ہم نے بدستور اس بات پر زور دیا کہ یمنی بحران کا حل فوجی نہیں ہے اور اس حوالے سے چارنکاتی امن تجویز پیش کی۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، یمن میں قیام امن سے متعلق اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha